نحل · 94/128
ترجمہ تلفظ — نحل
وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا السُّوءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۝٩٤
Wa laa tattakhizooo aimaanakum dakhalam bainakum ftazilla qadamum ba`da subootihaa wa tazooqus sooo`a bimmaa sadattum `an sabeelil laahi wa lakum `azaabun `azeem
📖 اردو ترجمہ
اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے رستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزہ چکھنا پڑے۔ اور بڑا سخت عذاب ملے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • دَخَلًا: دھوکہ، فریب، خیانت۔
  • تَزِلَّ قَدَمٌ: قدم پھسل جائے، یعنی ثابت قدمی کے بعد گمراہی میں مبتلا ہو جانا۔
  • السُّوءَ: برا عذاب، سزا۔
  • صَدَدتُّمْ: تم نے روکا، باز رکھا۔

تفسیر آیت:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہل ایمان کو ایک انتہائی اہم نصیحت فرما رہے ہیں کہ اپنی قسموں کو آپس میں دھوکہ اور فریب کا ذریعہ نہ بناؤ۔ یعنی کسی سے عہد و پیمان کرو تو اسے پورا کرو، اور اپنی قسم کو توڑ کر لوگوں کو دھوکہ نہ دو، کیونکہ اس طرح تم اپنے دین اور اپنی ساکھ دونوں کو نقصان پہنچاؤ گے۔

یہاں اللہ نے ایک بہت خوبصورت مثال دی ہے کہ جس طرح ایک شخص ثابت قدمی سے کھڑا ہو اور پھر اس کا قدم پھسل جائے تو وہ گر جاتا ہے اور زخمی ہوتا ہے، اسی طرح جب تم ایمان اور حق پر ثابت قدم رہنے کے بعد قسمیں توڑ کر دھوکہ دیتے ہو، تو تمہارے قدم بھی صراطِ مستقیم سے پھسل جاتے ہیں اور تم گمراہی کی طرف گر جاتے ہو۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دھوکہ اور عہد شکنی کی وجہ سے تمہیں دنیا میں بھی برا عذاب چکھنا پڑے گا، کیونکہ جب لوگ تمہارے دھوکہ اور غداری کو دیکھیں گے تو وہ اللہ کے دین سے بدظن ہو جائیں گے اور راہِ حق سے رک جائیں گے۔ تمہارے اس رویے کی وجہ سے لوگوں کو اسلام سے بدگمانی ہوگی، اور یہ تمہارے لیے بہت بڑا گناہ ہے۔ آخرت میں تو تمہارے لیے اور بھی عظیم عذاب ہے جو کسی طرح ٹلنے والا نہیں۔

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کا تقاضا صرف زبان سے کلمہ پڑھنا نہیں، بلکہ سچائی، وفاداری اور دیانت داری سے زندگی گزارنا ہے۔ جب ہم اپنے وعدوں اور قسموں کو پورا کریں گے تو لوگ ہمارے دین کی خوبصورتی دیکھیں گے اور اسلام کی طرف راغب ہوں گے۔ لیکن اگر ہم دھوکہ اور غداری کریں گے تو ہم نہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچائیں گے بلکہ دینِ اسلام کی بدنامی کا سبب بھی بنیں گے۔

یاد رکھیں! ایک مسلمان کی پہچان اس کی سچائی اور وفاداری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "نشانِ منافق تین ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے خلاف ورزی کرے، اور جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔" اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی قسموں اور وعدوں کو مضبوطی سے نبھائیں، تاکہ ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی اللہ کے فضل سے جنت کے مستحق بنیں۔

اللہ ہم سب کو سچائی اور وفاداری پر ثابت قدم رکھے اور دھوکہ اور غداری سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 92-96 — نحل

92وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَاثًا تَتَّخِذُونَ أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرْبَىٰ مِنْ أُمَّةٍ ۚ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللَّهُ بِهِ ۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا
93وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِن يُضِلُّ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اور اگر خدا چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اُس دن) اُن کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا
94وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا السُّوءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے رستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزہ چکھنا پڑے۔ اور بڑا سخت عذاب ملے
95وَلَا تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ إِنَّمَا عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو۔ (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو صلہ خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لیے بہتر ہے
96مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے کہ (کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم اُن کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے
نحلقرآن فہرست
128آیت
مکیRevelation
94آیت

ترجمہ — نحل 94

سورہ نحل آیت 94 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ…

سورہ آیت 94/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 92–96. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں