ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- يَدْعُ: پکارتا ہے، دعا مانگتا ہے
- بِالشَّرِّ: برائی کے ساتھ، نقصان کی چیز کے ساتھ
- دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ: جیسے بھلائی کے لیے دعا کرتا ہے
- عَجُولًا: جلد باز، بے صبرا
تفسیر:
یہ آیت کریمہ انسان کی ایک کمزوری اور خامی کو بیان کرتی ہے، جو اس کی جہالت اور عجلت سے پیدا ہوتی ہے۔ انسان جب غصے میں آتا ہے یا کسی مصیبت میں گھر جاتا ہے، تو وہ اپنے آپ پر، اپنی اولاد پر، یا اپنے مال پر بددعا کرنے لگتا ہے۔ وہ کہتا ہے: "اے اللہ! مجھے ہلاک کر دے"، "میرے بچے کو تباہ کر دے"، "میرا مال برباد کر دے" — حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ چیزیں اس کے لیے کتنی اہم ہیں۔ وہ بھلائی کے لیے جس طرح اللہ سے دعا مانگتا ہے، اسی طرح برائی کے لیے بھی دعا مانگنے لگتا ہے۔
یہ انسان کی جہالت ہے کہ وہ غصے کی حالت میں اپنے نقصان کی دعا کر بیٹھتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی یہ بددعا قبول فرما لیتا، تو وہ خود بھی ہلاک ہو جاتا اور اس کا مال و اولاد بھی تباہ ہو جاتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے انسان کی اس بددعا کو قبول نہیں فرماتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انسان اپنے غصے اور جلد بازی کی وجہ سے یہ دعا کر رہا ہے، اس کا دل واقعی یہ نہیں چاہتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان بڑا جلد باز ہے۔ وہ صبر نہیں کر سکتا، نہ خوشی میں اور نہ غم میں۔ جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو وہ فوراً گھبرا جاتا ہے اور ایسی باتیں کرنے لگتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ وہ سوچتا نہیں کہ اللہ کی مشیت میں اس کے لیے بھلائی ہو سکتی ہے، وہ صرف اپنی عجلت میں فیصلہ کر لیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے، خاص کر غصے کے وقت۔ غصہ شیطان کی طرف سے آتا ہے اور انسان کو ایسے کام کرا دیتا ہے جن پر بعد میں پچھتانا پڑتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ غصے کے وقت زبان کو بند رکھیں، بددعا نہ کریں، کیونکہ بددعا کبھی کبھی قبول ہو جاتی ہے اور پھر انسان خود اپنے نقصان کا ذمہ دار بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اندازہ کریں کہ وہ ہماری بددعاؤں کو قبول نہیں فرماتا، حالانکہ وہ ہماری ہر دعا سنتا ہے۔ یہ اس کی محبت اور شفقت ہے کہ وہ ہمارے غصے اور جہالت کو معاف کر دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے ہمیشہ بھلائی کی دعا کریں، اپنے لیے، اپنے خاندان کے لیے اور اپنی امت کے لیے خیر و برکت طلب کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صبر کی تلقین کی ہے، کیونکہ صبر ہی وہ خوبی ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی دلاتی ہے۔
آئیے ہم اپنی زبان کو قابو میں رکھیں، غصے کے وقت خاموش رہیں، اور اللہ سے ہمیشہ بھلائی کی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر اور برداشت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 9-13 — اسراء
ترجمہ — اسراء 11
سورہ اسراء آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی…سورہ آیت 11/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








