Alam tara ilal lazeena kharajoo min diyaarihim wa hum uloofun hazaral mawti faqaaala lahumul laahu mootoo summa ahyaahum; innal laaha lazoo fadlin `alannaasi wa laakinna aksarannaasi laa yashkuroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا آن هزاران تن را نديدهاى كه از بيم مرگ، از خانههاى خويش بيرون رفتند؟ سپس خدا به آنها گفت: بميريد. آنگاه همه را زنده ساخت. خدا به مردم نعمت مىدهد ولى بيشتر مردم شكر نعمت به جاى نمىآورند.
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أُلُوفٌ: ہزاروں کی تعداد میں، بہت بڑی جماعت۔
حَذَرَ الْمَوْتِ: موت کے ڈر سے۔
فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا: اللہ نے انہیں موت کا حکم دیا۔
ثُمَّ أَحْيَاهُمْ: پھر انہیں زندہ کیا۔
تفسیر:
اے نبی! کیا تمہیں ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے؟ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے، بنی اسرائیل کا ایک گروہ تھا جو کسی وبا یا جنگ کے خوف سے اپنے وطن چھوڑ کر بھاگے تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ بھاگ کر موت سے بچ جائیں گے، لیکن وہ بھول گئے کہ موت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ نے انہیں حکم دیا: "مر جاؤ!" چنانچہ وہ اسی وقت مر گئے۔ یہ ان کے لیے اس بات کی سزا تھی کہ انہوں نے اللہ کی تقدیر سے بھاگنے کی کوشش کی۔ پھر اللہ نے انہیں زندہ کیا تاکہ وہ اپنی غلطی کا احساس کریں، توبہ کریں اور جان لیں کہ اللہ کی مشیت کے آگے کوئی طاقت نہیں چل سکتی۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت فضل فرمانے والا ہے، وہ انہیں زندگی دیتا ہے، موت دیتا ہے اور پھر زندہ بھی کرتا ہے، لیکن اکثر لوگ اللہ کے ان احسانات کا شکر ادا نہیں کرتے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ موت سے بھاگنا کوئی حل نہیں، کیونکہ موت کا وقت اللہ نے مقرر کر دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، اس کی تقدیر پر راضی رہیں اور اس کے فضل کا شکر ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے، وہ ہمیں بار بار موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور اس کی طرف رجوع کریں۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے، جس طرح اس نے ان لوگوں کو زندہ کیا تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے فضل کو پہچانیں، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اپنی زندگیوں کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے احسانات کے شکر گزار بندے بنیں۔ آمین۔
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔