ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رَسُولَكُمُ: تمہارا پیغام لانے والا، بھیجا ہوا شخص
- أُرْسِلَ: بھیجا گیا
- لَمَجْنُونٌ: یقیناً دیوانہ، عقل سے محروم
تفسیر آیت:
فرعون نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیغام حق لوگوں کے دلوں میں اثر کر رہا ہے اور بنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے لوگ بھی اس دعوت کی طرف مائل ہو رہے ہیں، تو اس نے اپنے درباریوں اور خاص لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "یہ شخص جو تمہارے پاس رسول بن کر آیا ہے، یقیناً دیوانہ ہے!" اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کے دلوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات کی صداقت کے بارے میں شک پیدا کرے اور انہیں آپ کی دعوت سے بدظن کر دے۔
فرعون نے یہ الزام اس لیے لگایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو کچھ کہہ رہے تھے، وہ فرعون کی عقل اور اس کے معیار کے مطابق نہیں تھا۔ فرعون کا خیال تھا کہ جو شخص میری خدائی کا انکار کرے، جو میرے سامنے حق کی بات کرے، جو میرے جھوٹے دعوے کو چیلنج کرے، وہ یقیناً عقل سے محروم ہے۔ اس کی نظر میں عقل کا معیار یہ تھا کہ انسان اس کی باطل باتوں کو مانے اور اس کی غلط روش کی تائید کرے۔
یہ بات غور طلب ہے کہ فرعون نے یہ الفاظ اپنے خاص لوگوں سے کہے، تاکہ وہ اس کی زبان سے یہ بات سن کر اسے پھیلا دیں اور عوام میں یہ پروپیگنڈہ کریں کہ موسیٰ علیہ السلام پاگل ہیں۔ یہ باطل کے ماننے والوں کا ہمیشہ سے طریقہ رہا ہے کہ جب وہ حق کے دلائل کا جواب نہیں دے پاتے تو حق کہنے والے کو دیوانہ، جادوگر، یا پاگل قرار دے دیتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ حق کے دشمن جب حق کو شکست دینے سے عاجز آ جاتے ہیں تو وہ حق کہنے والوں پر الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں۔ آج بھی جب کوئی شخص سچائی کی بات کرتا ہے، تو اسے مختلف طریقوں سے بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر ہمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ثابت قدم رہنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کے دین کی خدمت کرتے ہیں، انہیں دنیا کے طعنوں اور الزاموں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں کبھی ذلیل نہیں کرتا۔ فرعون کی یہ بات دراصل اس کی کمزوری کا اظہار تھی، کیونکہ جب کسی کے پاس دلیل نہ ہو تو وہ جھوٹے الزامات کا سہارا لیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق پر قائم رہیں اور اللہ کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں سے گھبرائیں نہیں۔
📜 آیت 25-29 — شعراء
ترجمہ — شعراء 27
سورہ شعراء آیت 27 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا…سورہ آیت 27/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








