شعراء · 75/227
ترجمہ تلفظ — سورہ شعراء
قَالَ أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ ۝٧٥
Qaala afara `aitum maa kuntum ta`budoon
📖 اردو ترجمہ
ابراہیم نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَفَرَأَيْتُمْ: کیا تم نے غور سے دیکھا اور سوچا؟
  • مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ: جن چیزوں کی تم عبادت کرتے رہے ہو۔

تفسیر:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: ”کیا تم نے کبھی غور و فکر سے دیکھا اور سوچا ہے کہ تم جن چیزوں کی عبادت کرتے رہے ہو، وہ کیا ہیں؟“ یہ سوال دراصل ان کی قوم کے عقیدے کو بیدار کرنے کے لیے تھا، تاکہ وہ اپنے معبودوں کی حقیقت پر نظر ڈالیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں دعوت دی کہ وہ اپنے ان بتوں پر غور کریں جنہیں وہ اور ان کے آباء و اجداد صدیوں سے پوجتے آئے تھے۔ یہ بت نہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ وہ بے جان ہیں، نہ ان میں کوئی طاقت ہے اور نہ اختیار۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ سوال دراصل ان کے دلوں میں توحید کا بیج بونے کے لیے تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی قوم خود سوچے کہ کیا واقعی یہ پتھر کے بت ان کے خالق اور رازق ہو سکتے ہیں؟ کیا یہ انہیں زندگی دے سکتے ہیں یا موت لا سکتے ہیں؟ کیا یہ ان کی بیماریوں کو شفا دے سکتے ہیں یا ان کی حاجتیں پوری کر سکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی بھی صفت ان بتوں میں موجود نہیں۔

یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اندازِ گفتگو بہت ہی حکمت والا ہے۔ وہ براہِ راست ان کے عقیدے کی تردید نہیں کر رہے، بلکہ انہیں خود سوچنے اور غور کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ یہی طریقہ دعوت ہے کہ انسان کو خود غور و فکر کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ حق کو پہچان سکے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے عقائد اور اعمال پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ کیا ہم واقعی اس ہستی کی عبادت کر رہے ہیں جو سننے، دیکھنے، فائدہ پہنچانے اور نقصان سے بچانے پر قادر ہے؟ اللہ تعالیٰ وہ واحد ہستی ہے جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہی ہمیں رزق دیتا ہے، وہی شفا دیتا ہے، وہی زندگی اور موت دیتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی عبادت کو خالص اللہ کے لیے کرنا چاہیے اور کسی بھی مخلوق کو اس کا شریک نہیں بنانا چاہیے۔ یہی توحید کا پیغام ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو دیا اور یہی پیغام ہر نبی کا اصل پیغام رہا ہے۔ آئیے ہم بھی اس دعوت پر لبیک کہیں اور اپنے ایمان کو خالص اللہ کے لیے بنائیں۔



📜 آیت 73-77 — سورہ شعراء

73أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ
یا تمہیں کچھ فائدے دے سکتے یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟
74قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ
انہوں نے کہا (نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے
75قَالَ أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ
ابراہیم نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو
76أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ
تم بھی اور تمہارے اگلے باپ دادا بھی
77فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ
وہ میرے دشمن ہیں۔ مگر خدائے رب العالمین (میرا دوست ہے)
شعراءقرآن فہرست
227آیت
مکیRevelation
75آیت

ترجمہ — شعراء 75

سورہ شعراء آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ابراہیم نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو…

سورہ آیت 75/227 — سورہ شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ شعراء سنیں, سورہ شعراء ترجمہ, سورہ شعراء mp3, سورہ شعراء pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, September 8, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں