صالح نے کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ: تم عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہو؟
الْحَسَنَةِ: یہاں اس سے مراد توبہ اور ایمان ہے۔
لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ: تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں مانگتے؟
لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ: تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
تفسیر:
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کے کافر لوگوں سے فرمایا: اے میری قوم! تم عذاب کو کیوں جلدی مانگ رہے ہو؟ تم نے وہ راستہ اختیار کر رکھا ہے جو تمہیں عذاب کی طرف لے جاتا ہے، یعنی کفر اور برے اعمال، اور تم اس چیز کو کیوں پیچھے ڈال رہے ہو جو تمہیں ثواب اور رحمت تک پہنچاتی ہے، یعنی ایمان، توبہ اور نیک اعمال۔ تمہاری یہ جلد بازی کس قدر عجیب ہے کہ تم بھلائی کو چھوڑ کر برائی کی طرف دوڑ رہے ہو۔
پھر آپ نے انہیں سمجھایا کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ عذاب آنے کے بعد توبہ کرو گے تو کام بن جائے گا۔ عذاب جب آ جاتا ہے تو پھر توبہ قبول نہیں ہوتی۔ لہٰذا ابھی، اس سے پہلے کہ عذاب نازل ہو، اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اپنے کفر اور گناہوں سے توبہ کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اگر تم نے یہ کیا تو اللہ کی رحمت تمہارے شامل حال ہوگی، ورنہ عذاب آ کر تمہیں تباہ کر دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہمیں ہمیشہ نیکی میں جلدی کرنی چاہیے، برائی سے جلد باز نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ توبہ عذاب آنے سے پہلے کی جائے۔ اللہ کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، وہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ آئیے ہم سب اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ سے مغفرت طلب کریں، کیونکہ وہی ہے جو رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ اس کی رحمت سے کوئی مایوس نہیں ہوتا، اور جو اس کی طرف آتا ہے وہ کبھی خالی نہیں لوٹتا۔
(پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلیے، جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔