قصص · 61/88
ترجمہ تلفظ — قصص
أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ ۝٦١
Afamanw wa`adnaahu wa`dan hasanan fahuwa laaqeehi kamam matta`naahu mataa`al hayaatid dunyaa summa huwa Yawmal Qiyaamati minal muhdareen
📖 اردو ترجمہ
بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اُس نے اُسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا: ہم نے اس سے اچھا وعدہ کیا، یعنی جنت کا وعدہ۔
  • لَاقِيهِ: اسے پانے والا، اس تک پہنچنے والا۔
  • مَتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا: ہم نے اسے دنیا کی زندگی کا عارضی سامان دیا۔
  • مِنَ الْمُحْضَرِينَ: ان لوگوں میں سے جو (حساب کے لیے) حاضر کیے جائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں دو طرح کے لوگوں کا موازنہ فرماتا ہے تاکہ انسان خود فیصلہ کر لے کہ کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

پہلا شخص وہ ہے جس سے اللہ نے جنت کا سچا وعدہ کیا ہے، اور یہ وعدہ ایسا ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ یہ شخص ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال کی راہ پر چلتا ہے، اور اسے یقین ہے کہ اس کی آخرت کامیاب ہوگی۔ وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا کچھ دنوں کی مسافت ہے، اور اصل زندگی آخرت میں ہے۔ اس لیے وہ دنیا کو آخرت کے لیے کھیتی بناتا ہے، اور اللہ کا وعدہ اس کے دل میں اتنا پختہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔

دوسرا شخص وہ ہے جسے اللہ نے دنیا کی دولت، آرام، شہرت اور عیش و عشرت دے دی، اور وہ انہیں میں مگن ہو گیا۔ اس نے آخرت کو بھلا دیا، اور صرف دنیا کی خوشیوں کو ہی سب کچھ سمجھ لیا۔ وہ اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو گیا، اور اس کی عقل نے اسے صرف دنیا کے ظاہری سامان تک محدود کر دیا۔ لیکن یہ سامان تو چند دنوں کا ہے، پھر تو اسے قیامت کے دن حساب کے لیے حاضر کیا جائے گا، اور وہاں اسے اپنے اعمال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! جس نے اللہ کا وعدہ سچ مان کر اس پر عمل کیا، وہ کامیاب ہے۔ اور جس نے دنیا کی چند روزہ لذتوں کو اپنا مقصد بنا لیا، وہ نقصان میں ہے۔

دعوتی پہلو:

اے عزیز مسلمان! یہ آیت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا مقصد کیا بنائے ہوئے ہیں؟ کیا ہم اس شخص کی طرح ہیں جو اللہ کے وعدے پر یقین رکھتا ہے اور آخرت کی تیاری کرتا ہے؟ یا ہم اس شخص کی طرح ہیں جو دنیا کی چمک دمک میں کھو گیا ہے؟

اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اس کی جنت ایسی ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ دنیا کی لذتیں تو آنکھ جھپکتے ہی ختم ہو جاتی ہیں، لیکن آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ آج جو شخص اپنی نفسانی خواہشات کو قابو کر کے اللہ کی اطاعت کرتا ہے، کل قیامت کے دن وہ سرخرو ہوگا۔ اور جو شخص صرف دنیا کی خوشیوں میں ڈوبا رہا، وہ افسوس کرے گا کہ کاش اس نے اللہ کے وعدے کو سنجیدگی سے لیا ہوتا۔

اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دیں، اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزاریں۔ آمین۔



📜 آیت 59-63 — قصص

59وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَىٰ إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَ
اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔ جب تک اُن کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو اُن کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں
60وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ۚ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اور جو چیز تم کو دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے۔ اور جو خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
61أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ
بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اُس نے اُسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے
62وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
اور جس روز خدا اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تمہیں دعویٰ تھا
63قَالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَغْوَيْنَا أَغْوَيْنَاهُمْ كَمَا غَوَيْنَا ۖ تَبَرَّأْنَا إِلَيْكَ ۖ مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ
(تو) جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اور جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اُن کو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہوکر) اُن سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
61آیت

ترجمہ — قصص 61

سورہ قصص آیت 61 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور…

سورہ آیت 61/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 59–63. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں