قصص · 64/88
ترجمہ تلفظ — قصص
وَقِيلَ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَرَأَوُا الْعَذَابَ ۚ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ ۝٦٤
Wa qeelad `oo shurakaaa`akum fada`awhum falam yastajeeboo lahum wa ra awul `azaab; law annahum kaanoo yahtadoon
📖 اردو ترجمہ
اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو وہ اُن کو پکاریں گے اور وہ اُن کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ: اپنے ان معبودوں کو پکارو جنہیں تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔
  • فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ: انہوں نے ان کی پکار کا کوئی جواب نہ دیا، نہ کوئی مدد پہنچائی۔
  • وَرَأَوُا الْعَذَابَ: انہوں نے عذابِ الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔
  • لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ: کاش وہ دنیا میں ہدایت پر ہوتے (تو آج اس عذاب سے بچ جاتے

تفسیر:

قیامت کے دن جب مشرکین کو ذلت و رسوائی کے ساتھ حاضر کیا جائے گا، تو انہیں حکم دیا جائے گا: ”اب پکارو اپنے ان شریکوں کو جنہیں تم دنیا میں اللہ کے برابر سمجھتے تھے، جن کی عبادت کرتے تھے اور جن سے مدد کی امید رکھتے تھے۔ دیکھیں وہ آج تمہیں اس عذاب سے بچا سکتے ہیں یا نہیں؟“ چنانچہ وہ اپنے معبودوں کو پکاریں گے، لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آئے گا، نہ کوئی آواز ہی سنائی دے گی۔ وہ معبود نہ بول سکیں گے، نہ مدد کر سکیں گے، نہ کسی قسم کا کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے۔ اس وقت مشرکین عذابِ الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ اب کوئی چارہ کار نہیں، کوئی سفارشی نہیں، کوئی مددگار نہیں۔ اس وقت وہ شدتِ حسرت اور ندامت سے کہیں گے: ”کاش! ہم دنیا میں ہدایت پر ہوتے، کاش! ہم نے رسولوں کی بات مان لی ہوتی، کاش! ہم نے قرآن کی تعلیمات پر عمل کیا ہوتا، تو آج ہم اس ذلت اور عذاب سے بچ جاتے۔“

یہ منظر انتہائی عبرتناک ہے۔ جب انسان اپنے ان معبودوں کو پکارے گا جن پر اس نے ساری عمر بھروسہ کیا تھا، اور وہ اسے تنہا چھوڑ دیں گے، تو اسے سمجھ آئے گا کہ حقیقت میں کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، کوئی مددگار نہیں سوائے اس کے۔ لیکن یہ سمجھ اس وقت آئے گی جب سمجھ کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے۔ آج ہم جس چیز پر بھی اللہ کے سوا بھروسہ کرتے ہیں — چاہے وہ دولت ہو، اولاد ہو، مرتبہ ہو، یا کوئی اور چیز — وہ قیامت کے دن ہمارے کسی کام نہ آئے گی۔ صرف اللہ پر بھروسہ اور اس کی اطاعت ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ آج ہی اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور اللہ کی رحمت اور ہدایت کو اپنا سہارا بنائیں، تاکہ اس دن ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو حسرت اور ندامت کے ساتھ کہیں گے: ”کاش ہم ہدایت پر ہوتے۔“ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں ہی ہدایت کی توفیق دے اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 62-66 — قصص

62وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
اور جس روز خدا اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تمہیں دعویٰ تھا
63قَالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَغْوَيْنَا أَغْوَيْنَاهُمْ كَمَا غَوَيْنَا ۖ تَبَرَّأْنَا إِلَيْكَ ۖ مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ
(تو) جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اور جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اُن کو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہوکر) اُن سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے
64وَقِيلَ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَرَأَوُا الْعَذَابَ ۚ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ
اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو وہ اُن کو پکاریں گے اور وہ اُن کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے
65وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ
اور جس روز خدا اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا
66فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْأَنبَاءُ يَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا يَتَسَاءَلُونَ
تو وہ اس روز خبروں سے اندھے ہو جائیں گے، اور آپس میں کچھ بھی پوچھ نہ سکیں گے
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
64آیت

ترجمہ — قصص 64

سورہ قصص آیت 64 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو…

سورہ آیت 64/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 62–66. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں