آل عمران · 161/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّۚ وَمَن يَغۡلُلۡ يَأۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ  ۝١٦١
Wa maa kaana li Nabiyyin ai yaghull; wa mai yaghlul yaati bimaa ghalla Yawmal Qiyaamah; summa tuwaffaa kullu nafsim maa kasabat wa hum laa yuzlamoon
📖 اردو ترجمہ
اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یَغُلَّ: خیانت کرنا، چوری چھپے کسی چیز کو لے لینا، خاص طور پر غنیمت کے مال میں خیانت کرنا۔
  • یَأْتِ بِمَا غَلَّ: قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے گا جس میں اس نے خیانت کی تھی۔
  • تُوَفَّىٰ: پورا پورا دیا جائے گا، مکمل بدلہ ملے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے نبیوں کی پاکیزگی اور ان کی عظمت کا اعلان فرما رہے ہیں کہ کسی نبی کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خیانت کرے، چاہے وہ غنیمت کے مال میں ہو یا کسی اور معاملے میں۔ نبیوں کی سیرت ہمیشہ امانت، صداقت اور پاکیزگی پر مبنی رہی ہے، وہ اللہ کے منتخب بندے ہوتے ہیں اور ان کی ذات ہر قسم کی خیانت سے پاک ہوتی ہے۔

یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب غزوہ بدر کے موقع پر غنیمت کے مال کی تقسیم کے بارے میں کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں خیانت کا خیال ظاہر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی سختی سے تردید فرمائی اور واضح کیا کہ نبی کا مقام اس سے بہت بلند ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے عام مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی کہ جو شخص بھی خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن اپنی خیانت کا سامان لیے ہوئے حاضر ہوگا، اور سب کے سامنے اس کی رسوائی ہوگی۔ وہ اپنے کیے کا پھل بھگتے گا اور اسے اپنے جرم کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ یہ اس شخص کے لیے بہت بڑی ذلت اور شرمندگی کا باعث ہوگا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ عدلِ الٰہی کا ذکر فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ نیکی کرنے والے کو اس کی نیکی کا ثواب ملے گا اور بدی کرنے والے کو اس کی سزا ملے گی۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرے گا، نہ کسی کی نیکی کم کی جائے گی اور نہ کسی کی برائی میں اضافہ کیا جائے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ امانت داری اور دیانت داری اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر معاملے میں ایماندار ہو، چاہے وہ معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ خیانت کرنے والا شخص دنیا میں بھی ذلیل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اسے رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اللہ تعالیٰ کا عدل کامل ہے، وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال پر نظر رکھیں اور ہمیشہ نیکی کی راہ اختیار کریں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی پاکیزہ سیرت پر یقین رکھیں اور ان کی اتباع کریں، کیونکہ وہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔

آئیے ہم اپنی زندگیوں میں امانت داری کو اپنائیں اور خیانت سے بچیں، تاکہ ہم اللہ کے ہاں کامیاب ہوں اور قیامت کے دن رسوائی سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 159-163 — آل عمران

159فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّواْ مِنۡ حَوۡلِكَۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِينَ 
(اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو۔ اور اپنے کاموں میں ان سے مشورت لیا کرو۔ اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسا رکھو۔ بےشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے
160إِن يَنصُرۡكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمۡۖ وَإِن يَخۡذُلۡكُمۡ فَمَن ذَا ٱلَّذِي يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ 
اور خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں
161وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّۚ وَمَن يَغۡلُلۡ يَأۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ 
اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی
162أَفَمَنِ ٱتَّبَعَ رِضۡوَٰنَ ٱللَّهِ كَمَنۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأۡوَىٰهُ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ 
بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے
163هُمۡ دَرَجَٰتٌ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ 
ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
161آیت

ترجمہ — آل عمران 161

سورہ آیت 161/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 159–163. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں