ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- کفر: ناشکری اور انکارِ حق، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے احکام کو نہ ماننا۔
- یمہدون: بچھونا بچھانا، تیار کرنا، آرام گاہ بنانا۔ یعنی اپنے لیے جنت میں ٹھکانا تیار کرنا۔
تفسیرِ آیہ:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں عدلِ الٰہی اور سنتِ جزا کا واضح اصول بیان فرما رہے ہیں۔ جس شخص نے کفر کا راستہ اختیار کیا، اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا۔ کفر کا نقصان اللہ کو نہیں پہنچتا، بلکہ خود کافر ہی اپنے لیے جہنم کا ایندھن تیار کرتا ہے۔ وہ اپنے انکار اور سرکشی کی وجہ سے دائمی عذاب کا مستحق بن جاتا ہے، اور یہ اس کی اپنی کمائی ہے۔
دوسری طرف جو شخص ایمان لایا اور نیک اعمال کیے، وہ درحقیقت اپنے ہی لیے جنت میں آرام گاہیں تیار کر رہا ہے۔ جس طرح ایک مسافر اپنے سفر کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے اور منزل کی تیاری کرتا ہے، اسی طرح مومن اپنے اعمالِ صالحہ کے ذریعے جنت میں اپنے لیے بلند درجات اور عالی شان محل تیار کرتا ہے۔ یہ اس کی اپنی خیر ہے، جس کا فائدہ اسی کو پہنچے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ رب العزت نے انسان کو اپنے مستقبل کا معمار بنایا ہے۔ یہ بڑی رحمت کی بات ہے کہ ہر انسان خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ اپنے انجام کو کیسا بنانا چاہتا ہے۔ کفر کا راستہ تباہی اور نقصان کا راستہ ہے، جبکہ ایمان اور عملِ صالح کا راستہ کامیابی اور سعادت کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل، اختیار اور آزادی دی ہے تاکہ ہم اپنے لیے بہترین انجام کا انتخاب کریں۔
آئیے ہم اپنے اعمال کو دیکھیں، کیا ہم اپنے لیے جنت کے محل تیار کر رہے ہیں یا جہنم کی آگ؟ ہر نیک عمل، ہر صدقہ، ہر نماز، ہر روزہ، ہر اچھا اخلاق دراصل ہمارے لیے جنت میں ایک منزل تیار کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگی کو اس طرح گزاریں کہ ہمارا انجام جنت ہو، آمین۔
📜 آیت 42-46 — روم
ترجمہ — روم 44
سورہ روم آیت 44 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جس شخص نے کفر کیا تو اس کے کفر کا…سورہ آیت 44/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 42–46. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








