تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ اُن سے توبہ قبول کی جائے گی
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مَعْذِرَتُهُمْ: ان کے عذر، بہانے۔
يُسْتَعْتَبُونَ: ان سے رضا جوئی نہیں کی جائے گی، یعنی انہیں توبہ اور اطاعت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔
تفسیر:
قیامت کے دن جب تمام مخلوقات حساب و جزا کے لیے اٹھائی جائیں گی، تو ظالموں کے لیے کوئی بہانہ یا عذر کارگر نہ ہوگا۔ وہ جو بھی بہانے تراشیں گے، ان کے پیش کردہ عذر قبول نہیں کیے جائیں گے۔ نہ ہی ان سے یہ کہا جائے گا کہ وہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے توبہ کریں یا نیک اعمال کریں، کیونکہ توبہ اور رجوع کا وقت دنیا میں تھا، جو گزر چکا۔ اب وہ اپنے گناہوں اور معاصی کی سزا بھگتیں گے۔
یہ آیت مومنوں کے لیے ایک بہت بڑی نصیحت اور تنبیہ ہے کہ وہ دنیا کی زندگی میں اللہ کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور نیک اعمال کریں۔ کیونکہ قیامت کا دن وہ دن نہیں ہے جب عذر یا توبہ قبول ہو، بلکہ یہ دنیا ہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ اپنے بندوں کو توبہ کی دعوت دیتا ہے اور اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے، وہ چاہتا ہے کہ بندے اس کی طرف رجوع کریں اور اس کی رحمت سے محروم نہ رہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس مہلت کو غنیمت جانیں، اپنے اعمال کی اصلاح کریں، اور اللہ کی رضا کی جستجو میں لگے رہیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے، اور یہی وہ عمل ہے جو ہمیں اس دن کی رسوائی اور عذاب سے بچائے گا جب کوئی عذر کام نہ آئے گا۔
اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ خدا کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو۔ اور یہ قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم کو اس کا یقین ہی نہیں تھا
اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے اور اگر تم اُن کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو یہ کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔