ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ: جنہیں علم اور ایمان دیا گیا (یعنی انبیاء، ملائکہ اور مومنین)
- لَبِثْتُمْ: تم ٹھہرے رہے
- فِي كِتَابِ اللَّهِ: اللہ کے نوشتے میں (یعنی اللہ کے علم اور تقدیر میں جو لکھا جا چکا تھا)
- يَوْمِ الْبَعْثِ: اٹھائے جانے کا دن (قیامت کا دن)
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں قیامت کے دن کے ایک اہم منظر کا ذکر فرما رہے ہیں، جب مجرم اور کافر لوگ اپنے انجام سے پریشان اور حیران ہوں گے۔ وہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں صرف ایک گھڑی یا تھوڑی دیر ہی رہے تھے، لیکن اس وقت وہ لوگ جنہیں اللہ نے علم اور ایمان کی دولت سے نوازا تھا — چاہے وہ انبیاء ہوں، ملائکہ ہوں یا نیک مومنین — ان کے جواب میں فرمائیں گے: "تم اللہ کے لکھے ہوئے (تقدیر اور علم) میں اس دن تک ٹھہرے رہے جب تک کہ اٹھائے جانے کا دن آ گیا، اور یہ وہی دن ہے جسے تم جھٹلاتے تھے، لیکن تمہیں اس کا علم نہ تھا۔"
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے ازلی علم میں پہلے سے لکھ دیا تھا کہ انسان کو پیدا ہونے سے لے کر قیامت تک کی مدت کتنی ہے۔ یہ مدت خواہ دنیا کی زندگی ہو یا برزخ (قبر) کی زندگی، سب کچھ اللہ کے علم اور نوشتے میں مقرر ہے۔ جب قیامت آئے گی تو اہل علم و ایمان کافروں کو یاد دلائیں گے کہ تمہارا ٹھہرنا اللہ کے نوشتے کے مطابق تھا، اور یہ دن وہی ہے جسے تم دنیا میں جھٹلاتے تھے۔ تمہیں اس لیے یہ دن انکار تھا کیونکہ تمہیں حقیقت کا علم نہ تھا، تم نے دنیا کی ظاہری زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ لیا تھا اور آخرت کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہماری یہ دنیاوی زندگی اللہ کے علم اور تقدیر میں لکھی ہوئی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو ایک مقررہ وقت تک زندہ رہنا ہے، پھر قیامت کا دن آنا یقینی ہے۔ جس طرح اہل علم و ایمان قیامت کے دن کافروں کو سمجھائیں گے، اسی طرح آج بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم لوگوں کو آخرت کی یاد دلائیں اور انہیں اس دن کے لیے تیار کریں۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ علم اور ایمان کا ملاپ ہی انسان کو سیدھی راہ پر گامزن کرتا ہے — علم کے بغیر ایمان اندھا ہے اور ایمان کے بغیر علم صرف دنیاوی فائدے کا ذریعہ ہے۔ جب دونوں اکٹھے ہوں تو انسان آخرت کی حقیقت کو سمجھتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے۔
آئیے ہم اپنی زندگی کو اللہ کے نوشتے کے مطابق گزاریں، اس دن کی تیاری کریں جب ہم سب اٹھائے جائیں گے، اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں علم نافع اور ایمان کامل عطا فرمائے، تاکہ ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جو قیامت کے دن اہل علم و ایمان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ آمین۔
📜 آیت 54-58 — روم
ترجمہ — روم 56
سورہ روم آیت 56 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا…سورہ آیت 56/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 54–58. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








