کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَتَوَفَّاكُمْ: تمہاری روحیں قبض کرتا ہے۔
مَلَكُ الْمَوْتِ: موت کا فرشتہ (حضرت عزرائیل علیہ السلام)۔
وُكِّلَ بِكُمْ: جسے تم پر مقرر کیا گیا ہے۔
تُرْجَعُونَ: لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر:
اے نبی! ان مشرکین سے کہہ دو جو آخرت اور دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہیں: تمہیں موت کا فرشتہ، جسے اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو قبض کرنے پر مقرر کیا ہے، اپنی مقررہ مدت پوری ہونے پر موت دے گا۔ وہ تمہاری روحیں قبض کرے گا، چاہے تم کہیں بھی ہو، کوئی تمہیں اس سے بچا نہیں سکتا۔ پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے، اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ اگر تم نے نیکی کی تو نیک بدلہ، اور اگر برائی کی تو برا بدلہ۔ یہ موت اور پھر زندہ ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہونا کوئی بعید بات نہیں، بلکہ یہ حقیقت ہے جس سے بچنا ناممکن ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ موت کوئی دور کی چیز نہیں، بلکہ ہر لمحہ ہمارے قریب ہے۔ موت کا فرشتہ ہر شخص کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر ہے، اور جب وہ وقت آئے گا تو نہ کوئی تاخیر ہوگی اور نہ کوئی مہلت۔ لیکن اس کے بعد ہی اصل زندگی شروع ہوتی ہے — اللہ کے حضور پیشی اور حساب کتاب۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہر انسان کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ تو آئیے، ہم اس حقیقت کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی کو سنواریں، نیک اعمال کریں، اور اللہ کی رحمت کے طالب بنیں۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے، اس کے لیے آخرت میں کامیابی اور خوشی ہے۔ اللہ ہمیں موت سے پہلے توبہ کی توفیق دے اور اپنی رضا کی راہ پر چلائے۔ آمین۔
اور تم (تعجب کرو) جب دیکھو کہ گنہگار اپنے پروردگار کے سامنے سرجھکائے ہوں گے (اور کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے کہ نیک عمل کریں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔