کہہ دو کہ اگر تم مرنے یا مارے سے بھاگتے ہو تو بھاگنا تم کو فائدہ نہیں دے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائدہ اٹھاؤ گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْفِرَارُ: بھاگنا، فرار اختیار کرنا۔
لَا تُمَتَّعُونَ: تمہیں (دنیا میں) فائدہ نہیں دیا جائے گا، لطف اندوز نہیں ہو سکو گے۔
إِلَّا قَلِيلًا: مگر بہت تھوڑی مدت (جو تمہاری مقررہ عمر ہے)۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان منافقوں سے فرما دیجیے جو جنگ سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں اور موت یا قتل کے ڈر سے پیچھے ہٹ رہے ہیں: "اگر تم موت یا قتل کے خوف سے بھاگو گے تو یہ فرار تمہیں ہرگز کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔" کیونکہ موت اور زندگی کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور ہر شخص کی اجل مقرر ہے۔ اگر اللہ نے کسی کی موت لکھ دی ہے تو وہ چاہے میدان جنگ میں ہو یا گھر میں، وہ مرے گا ہی۔ فرار نہ تو موت کو ٹال سکتا ہے اور نہ ہی زندگی کو بڑھا سکتا ہے۔
اور اگر تم فرار ہو بھی جاؤ اور تمہاری اجل ابھی نہ آئی ہو، تو تم اس دنیا میں صرف اپنی مقررہ عمر کے بقدر ہی رہو گے، جو آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں بہت ہی قلیل اور معمولی ہے۔ یہ فرار تمہیں دنیا کی لذتوں میں زیادہ دن نہیں رکھ سکتا، نہ ہی یہ تمہارے مقدر کو بدل سکتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ موت سے بھاگنا ممکن نہیں، اور اللہ پر بھروسہ کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے، اپنے دین کی حفاظت کے لیے کمر بستہ رہے، اور یہ یقین رکھے کہ جو کچھ اللہ نے لکھ دیا ہے وہی ہوگا۔ موت کا ڈر ہمیں نیکیوں سے نہیں روکنا چاہیے، بلکہ ہمیں اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ ہم اللہ کے حضور کیا اعمال لے کر جائیں گے۔ یاد رکھیں، دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے، اور آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کرتا ہے، وہ حقیقت میں شہادت کا اعلیٰ مقام پاتا ہے، اور اللہ اسے بہترین اجر عطا فرماتا ہے۔ لہٰذا ہمیں بزدلی اور فرار سے بچنا چاہیے، اور اللہ پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرنے چاہئیں۔
کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے یا اگر تم پر مہربانی کرنی چاہے تو (کون اس کو ہٹا سکتا ہے) اور یہ لوگ خدا کے سوا کسی کو نہ اپنا دوست پائیں گے اور نہ مددگار
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔