ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کی عظیم صفات بیان فرمائی ہیں، تاکہ امت کے لیے ان کی زندگیاں نمونہ عمل بنیں۔
معانی الفاظ:
- یُبَلِّغُونَ: پہنچاتے ہیں، تبلیغ کرتے ہیں
- رِسَالَاتِ اللہِ: اللہ کے پیغامات، احکام اور شریعتیں
- یَخْشَوْنَہُ: اس سے ڈرتے ہیں، اس کا خوف رکھتے ہیں
- حَسِیبًا: حساب لینے والا، کافی نگراں اور نگہبان
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے برگزیدہ انبیاء کرام کی تعریف بیان فرما رہے ہیں، جو اللہ کے پیغامات کو بلا کسی خوف اور تردد کے امت تک پہنچاتے ہیں۔ یہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے اللہ کے احکام کی تبلیغ کو اپنا اولین فریضہ سمجھا اور اس راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو عبور کیا۔
ان کی سب سے بڑی صفت یہ تھی کہ وہ صرف اللہ سے ڈرتے تھے اور کسی مخلوق کا خوف ان کے دلوں میں نہیں تھا۔ جب وہ اللہ کا حکم پہنچاتے تھے تو انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ لوگ کیا کہیں گے، کون ناراض ہوگا، کون مخالفت کرے گا۔ ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی اور ان کا خوف صرف اللہ سے تھا۔
یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ انبیاء کرام جب اللہ کے احکام کی تبلیغ کرتے تھے تو لوگوں کی طرف سے انہیں طرح طرح کی اذیتیں دی جاتی تھیں، مگر وہ ڈٹے رہتے تھے۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ کوئی انہیں برا بھلا کہے گا، کوئی ان کا مذاق اڑائے گا، کوئی انہیں جھٹلائے گا۔ وہ صرف اللہ کا خوف رکھتے تھے اور اسی کی رضا کے طلبگار تھے۔
آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "اللہ ہی کافی حساب لینے والا ہے" یعنی اے نبی! آپ کو کسی کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں، اللہ ہی آپ کا محافظ ہے، وہی آپ کے اعمال کا حساب لینے والا ہے، اور وہی آپ کی مدد کرنے والا ہے۔ جو لوگ آپ کی مخالفت کرتے ہیں، اللہ ان سے آپ کا بدلہ لے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ایک مومن کی زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونی چاہیے۔ ہمیں اللہ کے دین کی تبلیغ کرتے وقت کسی کے خوف سے باز نہیں رہنا چاہیے۔ اگر ہم صرف اللہ سے ڈریں گے تو اللہ ہمیں عزت دے گا اور ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دے گا۔
آج کے دور میں جب مسلمانوں پر مختلف طرح کے دباؤ آتے ہیں، ہمیں انبیاء کرام کی اس عظیم صفت کو اپنانا چاہیے۔ ہمیں حق بات کہنے میں، نیکی کا حکم دینے میں اور برائی سے روکنے میں کسی کا خوف نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ ہی ہمارا حساب لینے والا ہے، وہی ہماری حفاظت کرنے والا ہے، اور وہی ہمیں کامیابی عطا کرنے والا ہے۔
یاد رکھیں! جب ہم اللہ کے لیے کام کریں گے تو اللہ خود ہماری مدد فرمائے گا، جیسا کہ اس نے اپنے انبیاء کی مدد فرمائی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو لوگ اس کے دین کی نصرت کریں گے، وہ ان کی نصرت ضرور فرمائے گا۔
📜 آیت 37-41 — احزاب
ترجمہ — احزاب 39
سورہ احزاب آیت 39 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو خدا کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے اور…سورہ آیت 39/73 — احزاب الأحزاب (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: احزاب سنیں, احزاب ترجمہ, احزاب mp3, احزاب pdf. آیت 37–41. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








