کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَبْسُطُ الرِّزْقَ: رزق کو کشادہ کرنا، فراخی دینا۔
وَيَقْدِرُ: تنگی کرنا، کم کرنا۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو اپنے مال و دولت اور دنیوی آسائشوں پر مغرور ہو کر حق کو جھٹلا رہے ہیں کہ میرے رب کا معاملہ تمہارے خیال کے مطابق نہیں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ یہ کشادگی یا تنگی اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ کسی سے محبت رکھتا ہے یا کسی سے نفرت۔ بلکہ یہ تو اللہ کی حکمت اور آزمائش کا معاملہ ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے دولت دیتا ہے تاکہ دیکھے کہ وہ شکر کرتا ہے یا ناشکری، اور جس سے چاہتا ہے رزق روک لیتا ہے تاکہ آزمائے کہ وہ صبر کرتا ہے یا بے صبری دکھاتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی حکمتِ کاملہ کے تحت ہوتا ہے، کوئی بات بے حکمت نہیں۔ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے، کیونکہ وہ غور و فکر نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جسے دنیا میں زیادہ دیا گیا وہ اللہ کا محبوب ہے اور جسے کم دیا گیا وہ اللہ کا ناپسندیدہ ہے۔ یہ ان کی جہالت ہے۔
اللہ تعالیٰ کبھی کسی کو مال و دولت دیتا ہے تو یہ اس کی رحمت بھی ہو سکتی ہے اور کبھی یہ استدراج (آہستہ آہستہ پکڑنے) کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ اسی طرح کسی سے رزق روکنا بھی آزمائش ہو سکتی ہے۔ پس اے بندو! تمہیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کے فیصلے پر راضی رہو، شکر اور صبر کو اپنا شعار بناؤ۔ یاد رکھو کہ اللہ کا کوئی حکم بے حکمت نہیں، وہ جو کچھ کرتا ہے بہترین مصلحت کے ساتھ کرتا ہے۔ اگر تم یہ حقیقت جان لو تو تمہارے دلوں کو سکون ملے گا اور تمہیں یقین ہو جائے گا کہ دنیا کی کشادگی یا تنگی تمہارے لیے بہتری ہی کا باعث بنتی ہے۔ اللہ ہر حال میں تمہارے لیے بھلائی ہی چاہتا ہے۔
اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنا دیں۔ ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا۔ ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلہ ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالاخانوں میں بیٹھے ہوں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔