Alhamdu lillaahi faatiris samaawaati wal ardi jaa`ilil malaaa`ikati rusulan uleee ajnihatim masnaa wa sulaasa wa rubaa`; yazeedu fil khalqi maa yashaaa`; innal laaha `alaa kulli shai`in Qadeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار ہے) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں۔ وہ (اپنی) مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
ستايش از آن خداوند است، آفريننده آسمانها و زمين، آن كه فرشتگان را رسولان گردانيد. فرشتگانى كه بالهايى دارند، دودو و سهسه و چهارچهار. در آفرينش هر چه بخواهد مىافزايد، زيرا خدا بر هر كارى تواناست.
سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار ہے) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں۔ وہ (اپنی) مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فاطر: پیدا کرنے والا، بغیر کسی سابقہ نمونے کے خالق۔
رسلاً: قاصد، پیغام پہنچانے والے۔
أُولِي أَجْنِحَةٍ: پروں والے۔
مَّثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ: دو دو، تین تین، چار چار۔
تفسیر:
ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے انہیں بغیر کسی سابقہ مثال کے تخلیق کیا۔ وہی فرشتوں کو اپنے بندوں کی طرف رسول بنا کر بھیجتا ہے، اور انہیں وہ طاقت عطا کی ہے جو اس کے احکامات کو بجالانے کے لیے ضروری ہے۔ فرشتوں کے پروں کی تعداد مختلف ہے، بعض کے دو، بعض کے تین اور بعض کے چار پروں ہیں، جن کے ذریعے وہ اللہ کے حکم سے تیز رفتاری سے سفر کرتے ہیں اور اس کے پیغامات پہنچاتے ہیں۔ اللہ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے، خواہ وہ شکل و صورت ہو، حسن ہو، آواز ہو یا کوئی اور صفت۔ وہ جسے چاہتا ہے خصوصی صلاحیتیں عطا فرماتا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز عاجز نہیں، نہ آسمانوں کی تخلیق اسے تھکاتی ہے اور نہ زمین کی وسعتوں کا انتظام۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ کی عظمت اور کمال قدرت کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے جو ہر انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ جب ہم آسمانوں کی بلندیوں، زمین کی وسعتوں اور فرشتوں کی مخلوق پر غور کرتے ہیں تو ہمارا ایمان مزید پختہ ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک عظیم خالق کا کرشمہ ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی تعریف کرنا ہی ہماری عبادت کا اصل جوہر ہے، اور اس کی قدرت کا کوئی حد نہیں۔ اگر اللہ نے فرشتوں کو پروں والی مخلوق بنایا، تو وہ ہمیں بھی اپنی رحمت سے وہ کچھ دے سکتا ہے جو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کریں، اس کی قدرت پر یقین رکھیں، اور اپنی زندگیوں کو اس کے احکامات کے مطابق ڈھالیں۔ جو شخص اللہ کی قدرت پر یقین رکھتا ہے، وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ ہر مشکل کو آسان کر سکتا ہے اور ہر اندھیری رات کے بعد روشنی دکھا سکتا ہے۔
سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار ہے) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں۔ وہ (اپنی) مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
خدا جو اپنی رحمت (کا دروازہ) کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں۔ اور جو بند کردے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
لوگو خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو۔ کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رازق ہے) جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔