ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الظل: سایہ، ٹھنڈک۔ یہاں مراد جنت کی ٹھنڈک اور راحت ہے۔
- الحرور: تیز گرم ہوا، شدید گرمی۔ یہاں مراد جہنم کی تپش اور عذاب ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور مثال دی ہے تاکہ حق و باطل، ایمان و کفر اور جنت و جہنم کا فرق واضح ہو جائے۔ جس طرح سایہ اور شدید گرم ہوا کبھی برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح جنت کی ٹھنڈک اور جہنم کی تپش کبھی یکساں نہیں ہو سکتیں۔
یہاں "ظل" سے مراد جنت کی راحت، سکون اور ٹھنڈک ہے، جبکہ "حرور" سے مراد جہنم کی شدید گرمی، جلن اور عذاب ہے۔ جس طرح دنیا میں کوئی عقل مند شخص سایہ اور دھوپ میں فرق نہیں کرتا، اسی طرح آخرت میں جنت اور جہنم کے درمیان فرق کرنا ہر صاحب عقل کے لیے ضروری ہے۔
یہ آیت مومنین کو بشارت دیتی ہے کہ وہ جنت کے سایہ میں آرام کریں گے، جہاں نہ کوئی گرمی ہوگی، نہ تھکن، نہ دکھ۔ اور کافروں کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ جہنم کی تپش میں جھلس جائیں گے، جہاں نہ کوئی ٹھنڈک ہوگی، نہ راحت۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ہمیشہ سایہ (یعنی ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال) کو اختیار کریں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں جنت کی ٹھنڈک تک پہنچائے گا۔ گرم ہوا (یعنی کفر، گناہ اور غفلت) سے بچیں، کیونکہ یہ جہنم کی تپش کی طرف لے جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم اچھے اور برے میں فرق کریں، اور قرآن نے ہمیں راستہ دکھایا ہے۔ جو شخص اس فرق کو سمجھ کر ایمان کی راہ اختیار کرتا ہے، وہ کامیاب ہے، اور جو اسے نظر انداز کرتا ہے، وہ نقصان میں ہے۔ اللہ ہمیں سایۂ رحمت میں رکھے اور جہنم کی گرمی سے بچائے۔ آمین۔
📜 آیت 19-23 — فاطر
ترجمہ — فاطر 21
سورہ فاطر آیت 21 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور نہ سایہ اور دھوپسورہ آیت 21/45 — فاطر فاطر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فاطر سنیں, فاطر ترجمہ, فاطر mp3, فاطر pdf. آیت 19–23. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








