ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الظُّلُمات: تاریکیاں، جمعِ ظُلمت، یہاں اس سے مراد کفر اور شرک کی تاریکیاں ہیں۔
- النُّور: روشنی، یہاں اس سے مراد ایمان اور ہدایت کی روشنی ہے۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور واضح مثال دے کر حق و باطل کے درمیان فرق کو نمایاں کیا ہے۔ جس طرح تاریکی اور روشنی کبھی برابر نہیں ہو سکتیں، اسی طرح کفر کی تاریکیاں اور ایمان کی روشنی بھی کبھی یکساں نہیں ہو سکتیں۔ تاریکیاں جہالت، گمراہی، شرک اور معصیت کی علامت ہیں، جبکہ نور علم، ہدایت، توحید اور طاعتِ الٰہی کی علامت ہے۔
یہاں اللہ رب العزت نے اہلِ ایمان کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ حق و باطل کے درمیان کبھی موازنہ نہ کریں، نہ ہی ان کی ظاہری صورتوں سے دھوکہ کھائیں۔ کفر کی تاریکیاں چاہے کتنی ہی پھیلی ہوئی ہوں، وہ ایمان کی ایک کرن کے برابر بھی نہیں۔ جس طرح اندھیرا اور اجالا اکٹھے نہیں رہ سکتے، اسی طرح ایمان اور کفر ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔
یہ آیت مومن کو بصیرت عطا کرتی ہے کہ وہ دنیا کی ظاہری چمک دمک سے دھوکہ نہ کھائے، کیونکہ یہ سب کفر کی تاریکیاں ہیں جو بالآخر انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہیں۔ جبکہ ایمان کی روشنی، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، انسان کو جنت اور اللہ کی رضا تک پہنچا دیتی ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرنا چاہیے، علمِ دین حاصل کرنا چاہیے، اور کفر و شرک کی ہر شکل سے دور رہنا چاہیے۔ کیونکہ جس دل میں ایمان کی روشنی ہوتی ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے، اور جس دل میں کفر کی تاریکیاں ہوں، وہ دونوں جہانوں میں ناکام و نامراد رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی روشنی عطا فرمائے اور کفر و شرک کی تاریکیوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 18-22 — فاطر
ترجمہ — فاطر 20
سورہ فاطر آیت 20 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور نہ اندھیرا اور روشنیسورہ آیت 20/45 — فاطر فاطر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فاطر سنیں, فاطر ترجمہ, فاطر mp3, فاطر pdf. آیت 18–22. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








