پھر میں نے کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا ہوا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَخَذْتُ: میں نے پکڑا، یعنی عذاب کے ذریعے مؤاخذہ کیا۔
نَكِيرِ: میرا انکار، یعنی میری طرف سے سختی اور سزا۔
تفسیر:
پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جنہوں نے کفر کیا، یعنی انبیاء کی دعوت کو جھٹلایا اور اللہ کی آیات سے منہ موڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف اقسام کے عذابوں میں مبتلا کیا، جیسے پچھلی قوموں پر آنے والا عذاب، طوفان، زلزلہ، چیخ، پتھر وغیرہ۔ یہ سب اللہ کا انکار تھا، یعنی اللہ نے ان کے اعمال کو ناپسند کیا اور ان پر اپنی سزا نازل فرمائی۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس طرح پہلی قوموں نے انبیاء کو جھٹلایا اور میں نے انہیں عذاب میں گرفتار کیا، اسی طرح اگر یہ کافر آپ کی دعوت نہ مانیں تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا۔ یہ ایک سخت تنبیہ ہے کہ اللہ کی سزا سے بچنا ممکن نہیں، اور اس کا انکار کرنے والوں کا انجام ہمیشہ برا رہا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرتا ہے لیکن جب وہ پکڑتا ہے تو بہت سخت پکڑتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اس کے رسولوں کی اطاعت کریں، کیونکہ اللہ کا عذاب بہت شدید ہے۔ نیز یہ آیت ہمیں اللہ کی رحمت کی طرف راغب کرتی ہے کہ ہم اس کے فضل سے محروم نہ ہوں، کیونکہ جو لوگ اللہ کے انکار پر قائم رہتے ہیں، ان کا انجام تباہی ہے۔ اللہ ہمیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور اس کے عذاب سے بچائے۔ آمین۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا۔ تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے پیدا کئے۔ اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور (بعض) کالے سیاہ ہیں
انسانوں اور جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں۔ خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔ بےشک خدا غالب (اور) بخشنے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔