ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَخَذْتُ: میں نے پکڑا، یعنی عذاب کے ذریعے مؤاخذہ کیا۔
- نَكِيرِ: میرا انکار، یعنی میری طرف سے سختی اور سزا۔
تفسیر:
پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جنہوں نے کفر کیا، یعنی انبیاء کی دعوت کو جھٹلایا اور اللہ کی آیات سے منہ موڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف اقسام کے عذابوں میں مبتلا کیا، جیسے پچھلی قوموں پر آنے والا عذاب، طوفان، زلزلہ، چیخ، پتھر وغیرہ۔ یہ سب اللہ کا انکار تھا، یعنی اللہ نے ان کے اعمال کو ناپسند کیا اور ان پر اپنی سزا نازل فرمائی۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس طرح پہلی قوموں نے انبیاء کو جھٹلایا اور میں نے انہیں عذاب میں گرفتار کیا، اسی طرح اگر یہ کافر آپ کی دعوت نہ مانیں تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا۔ یہ ایک سخت تنبیہ ہے کہ اللہ کی سزا سے بچنا ممکن نہیں، اور اس کا انکار کرنے والوں کا انجام ہمیشہ برا رہا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرتا ہے لیکن جب وہ پکڑتا ہے تو بہت سخت پکڑتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اس کے رسولوں کی اطاعت کریں، کیونکہ اللہ کا عذاب بہت شدید ہے۔ نیز یہ آیت ہمیں اللہ کی رحمت کی طرف راغب کرتی ہے کہ ہم اس کے فضل سے محروم نہ ہوں، کیونکہ جو لوگ اللہ کے انکار پر قائم رہتے ہیں، ان کا انجام تباہی ہے۔ اللہ ہمیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور اس کے عذاب سے بچائے۔ آمین۔
📜 آیت 24-28 — سورہ فاطر
ترجمہ — فاطر 26
سورہ فاطر آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر میں نے کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لو…سورہ آیت 26/45 — سورہ فاطر فاطر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ فاطر سنیں, سورہ فاطر ترجمہ, سورہ فاطر mp3, سورہ فاطر pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 7, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








