ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ما لکم: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟
- کیف تحکمون: تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ مشرکینِ عرب کو سخت گیر الفاظ میں مخاطب کر کے ان کے باطل عقیدے پر گرفت کر رہے ہیں۔ مشرکین کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، جبکہ وہ خود اپنے لیے بیٹوں کو پسند کرتے تھے اور بیٹیوں کی پیدائش پر شرمندگی محسوس کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟ تم اللہ کے لیے وہ چیز ثابت کرتے ہو جو تم خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔
یہ ایک ایسا حکم ہے جو عقلِ سلیم، فطرتِ انسانی اور شرافتِ نفس کے خلاف ہے۔ اگر تم خود بیٹیوں کو باعثِ عار سمجھتے ہو تو اللہ کے لیے انہیں کیسے تجویز کرتے ہو؟ کیا اللہ تم سے کمتر ہے؟ ہرگز نہیں! یہ تمہارا فیصلہ انتہائی باطل، ظالمانہ اور جاہلانہ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے اور وہ ہر عیب سے منزّہ ہے۔ ہمیں اللہ کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کہنی چاہیے جو اس کی شانِ عظمت کے خلاف ہو۔ نیز یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو عزت دی ہے اور بیٹیوں کو رحمت قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ اس کے لیے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنیں گی۔" (بخاری)
آج کے دور میں بھی بہت سے لوگ بیٹیوں کو کم تر سمجھتے ہیں، یہ جاہلیت کا رویہ ہے۔ اسلام نے بیٹیوں کو باعثِ برکت قرار دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام کو بغیر کسی اعتراض کے قبول کریں اور اپنے عقیدے کو شرک اور جہالت سے پاک رکھیں۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھائے۔ آمین۔
📜 آیت 152-156 — صافات
ترجمہ — صافات 154
سورہ صافات آیت 154 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تم کیسے لوگ ہو، کس طرح کا فیصلہ کرتے ہوسورہ آیت 154/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 152–156. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








