ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سَقِیمٌ: بیمار، علیل۔
تفسیر آیت:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو بتوں کی عبادت کرتے دیکھا اور انہیں اس شرک سے روکنے کا ارادہ کیا، تو وہ ایک حکمت عملی کے تحت اپنے قوم کے اس اجتماع سے بچنا چاہتے تھے جو ان کے بتوں کے تہوار کے موقع پر منعقد ہونے والا تھا۔ چنانچہ انہوں نے ستاروں کی طرف غور سے دیکھا اور پھر اپنی قوم سے کہا: "میں بیمار ہوں"۔
یہ کوئی جھوٹ نہیں تھا، بلکہ ایک تعریض اور کنایہ تھا، جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اس تہوار میں شرکت سے معذور ہیں، اور ان کا دل شرک اور بت پرستی سے بیمار تھا۔ بعض مفسرین نے اسے طاعون کی بیماری سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ عرب لوگ طاعون سے بہت ڈرتے تھے اور اس سے بھاگتے تھے۔ اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے الگ ہو کر ان کے بتوں کو توڑنے کا موقع حاصل کیا، تاکہ وہ انہیں توحید کی طرف بلائیں اور شرک کی برائی ثابت کریں۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کی دعوت دینے کے لیے حکمت اور تدبیر بھی ضروری ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشن کو کامیاب بنانے کے لیے ایسی حکمت عملی اختیار کی جو انہیں شرک کے خلاف مؤثر کارروائی کا موقع دے سکے۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہمیں اپنے دین کی تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے دانشمندی سے کام لینا چاہیے، اور جہاں مواقع ملیں وہاں حق بات کہنے اور باطل کو رد کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور ان کے لیے راستے آسان فرماتا ہے، جیسا کہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے دشمنوں کے مکر سے بچایا اور ان کے دین کو غالب کیا۔
📜 آیت 87-91 — صافات
ترجمہ — صافات 89
سورہ صافات آیت 89 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہا میں تو بیمار ہوںسورہ آیت 89/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 87–91. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








