ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَتَوَلَّوْا: وہ پھر گئے، منہ موڑ لیا
- عَنْهُ: اس (ابراہیم علیہ السلام) سے
- مُدْبِرِینَ: پیٹھ پھیر کر، واپس چلے گئے
تفسیر:
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے روکنے کے لیے یہ تدبیر کی کہ وہ ان کے تہوار اور میلے میں شریک نہ ہوں، تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا: "میں بیمار ہوں۔" یہ ایک تعریض اور کنایہ تھا، یعنی انہوں نے سیدھے الفاظ میں جھوٹ نہیں بولا، بلکہ ایک ایسا انداز اختیار کیا جس سے ان کی مراد یہ تھی کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتا۔ قوم نے یہ سن کر انہیں چھوڑ دیا اور وہ سب کے سب اپنے تہوار کی طرف چلے گئے، پیٹھ پھیر کر۔
یہ واقعہ اس بات کی عظیم مثال ہے کہ حق کے داعی کو حکمت اور تدبیر سے کام لینا چاہیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشن کی کامیابی کے لیے ایسی حکمت عملی اپنائی کہ دشمنانِ حق خود ہی میدان چھوڑ کر چلے گئے، اور انہیں موقع مل گیا کہ وہ بتوں کو توڑ کر توحید کا پیغام بلند کریں۔
یہاں سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دعوتِ حق کے لیے صرف سچائی ہی کافی نہیں، بلکہ حکمت، صبر اور موقع کی مناسبت سے عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو خود ہی راستے سے ہٹا دیتا ہے، جیسے اس آیت میں قومِ ابراہیم خود ہی چلی گئی۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ جب انسان اپنے ایمان اور مقصد کے لیے خلوص نیت سے کوشش کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے اور مشکلات کو آسان بنا دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تنہا اپنی قوم کے سامنے حق کا پرچم بلند کیا، اور اللہ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی۔
آج بھی جب کوئی مسلمان حق پر قائم رہتا ہے اور اللہ کی راہ میں حکمت سے کام لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں حکمت اور تدبیر کو اپنائیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
📜 آیت 88-92 — صافات
ترجمہ — صافات 90
سورہ صافات آیت 90 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تب وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئےسورہ آیت 90/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 88–92. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








