ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بُنْيَانًا: اونچی عمارت یا ڈھانچہ۔
- الْجَحِيمِ: آگ کا بھڑکتا ہوا گڑھا، شدید آگ۔
تفسیر:
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے توحید کی ایسی واضح دلیلیں پیش کر دیں کہ ان کے پاس کوئی جواب نہ بچا، اور وہ منطقی بحث میں مکمل طور پر مغلوب ہو گئے، تو انہوں نے اپنی ناامیدی اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دلیل کے بجائے طاقت کا سہارا لیا۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا: "اس کے لیے ایک بڑا ڈھانچہ بناؤ، اسے لکڑیوں سے بھر دو، آگ روشن کرو، اور جب وہ خوب بھڑک اٹھے تو ابراہیم کو اس میں پھینک دو۔"
یہ منظر ان کی ظالمانہ اور بے رحمانہ سوچ کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ حق کو دبانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دوست کو اس آگ سے محفوظ رکھا، اور آگ کو ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق پر قائم رہنے والوں کو چاہے کتنی ہی سخت آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے، اللہ کی حفاظت ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ اہلِ باطل چاہے کتنی ہی طاقت جمع کر لیں، اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں حق پر ثابت قدم رہیں، کیونکہ اللہ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یہ واقعہ ہمارے ایمان کو مضبوط کرتا ہے کہ کوئی بھی ظالم قوت اللہ کے ارادے کے آگے بے بس ہے، اور آخر کار حق ہی غالب آتا ہے۔
📜 آیت 95-99 — صافات
ترجمہ — صافات 97
سورہ صافات آیت 97 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ…سورہ آیت 97/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 95–99. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








