ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- خَلَقَكُمْ: اس نے تمہیں پیدا کیا۔
- وَمَا تَعْمَلُونَ: اور جو کچھ تم کرتے ہو (یعنی تمہارے اعمال اور تمہارے بنائے ہوئے بت)۔
تفسیر:
اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ عظیم موقف بیان ہوا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم ان بتوں کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود تراشتے اور بناتے ہو؟ حالانکہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو بھی پیدا کیا۔ یعنی تم جو کچھ کرتے ہو، چاہے وہ بت تراشنا ہو یا کوئی اور عمل، سب اللہ کی مشیت اور اس کی قدرت سے ہی وجود میں آتا ہے۔ وہی خالق ہے، وہی مالک ہے، اور وہی عبادت کا حقیقی مستحق ہے۔
یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑی حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ انسان اپنے ہاتھوں سے جو چیزیں بناتا ہے، وہ کبھی عبادت کے لائق نہیں ہو سکتیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا، اسے عقل دی، اسے ہاتھ دیے، اور اسے عمل کرنے کی طاقت دی۔ پھر بھی انسان اپنے بنائے ہوئے بتوں کے سامنے سر جھکاتا ہے، یہ کتنی بڑی ناشکری ہے!
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر نعمت کا مالک اللہ ہے، ہر عمل کا خالق اللہ ہے، اور ہر چیز اسی کی طرف لوٹنے والی ہے۔ جب ہم یہ سمجھ لیں کہ ہماری زندگی، ہمارا وجود، ہمارے اعمال سب اللہ کے عطا کردہ ہیں، تو پھر ہمیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے، اسی سے مدد مانگنی چاہیے، اور اسی کے سامنے جھکنا چاہیے۔
یہ آیت ہمیں توحید کی دعوت دیتی ہے اور شرک سے بچاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کو مرکز بنائیں، اسی کی رضا کے لیے عمل کریں، اور اسی سے اجر کی امید رکھیں۔ اللہ ہمیں سچی توحید پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 94-98 — صافات
ترجمہ — صافات 96
سورہ صافات آیت 96 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : حالانکہ تم کو اور جو تم بناتے ہو اس کو…سورہ آیت 96/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 94–98. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








