شُفَعَاءَ: سفارشی کرنے والے، وہ جن سے سفارش کی امید رکھی جائے۔
لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا: کسی چیز کے مالک نہیں، نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔
لَا يَعْقِلُونَ: عقل نہیں رکھتے، نہ سمجھتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں مشرکین کے اس باطل عقیدے کا پردہ چاک کر رہے ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا اپنے معبودوں کو سفارشی بنا رکھا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ بت اور مجسمے اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے اور ان کی حاجتیں پوری کروائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ناپسندیدگی اور انکار کا اظہار فرماتے ہوئے نبی کریم ﷺ سے کہتا ہے کہ ان سے پوچھیے: کیا تم واقعی انہیں سفارشی بناتے ہو، حالانکہ یہ نہ تو کسی چیز کے مالک ہیں، نہ تمہاری عبادت کو سمجھتے ہیں، نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں، نہ بولتے ہیں؟ یہ تو بےجان پتھر ہیں جو نہ خود کسی کام آ سکتے ہیں اور نہ تمہارے کسی کام آئیں گے۔
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں، کیا کوئی عقل مند انسان ایسی چیز سے مدد مانگے جو خود بےبس ہو، جو نہ سن سکے، نہ بول سکے، نہ کوئی فائدہ پہنچا سکے؟ یہ تو خالص اللہ کی توحید کا تقاضا ہے کہ ہم صرف اسی سے مدد مانگیں، صرف اسی سے دعائیں کریں، اور صرف اسی کی ذات کو سفارشی اور حاجت روا بنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ اس کے پاس شفاعت کا حق صرف اسے حاصل ہے جسے اللہ خود اجازت دے۔ تو آئیے! ہم اپنی تمام حاجتیں، اپنی پریشانیاں اور اپنے معاملات صرف اللہ کے حوالے کریں، کیونکہ وہی سننے والا، دیکھنے والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کی ذات سے بڑھ کر کوئی مددگار اور سفارشی نہیں۔
ہم نے تم پر کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لئے سچائی کے ساتھ نازل کی ہے۔ تو جو شخص ہدایت پاتا ہے تو اپنے (بھلے کے) لئے اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی سے تو اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور (اے پیغمبر) تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو
خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کرچکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں
اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔