بِمَا كَسَبَتْ: اس کے اعمال کے بدلے جو اس نے کمائے۔
لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ: آج کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔
سَرِيعُ الْحِسَابِ: حساب لینے میں بہت تیز۔
تفسیر:
آج کا دن وہ عظیم دن ہے جب ہر نفس کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ جو شخص نیکی کرے گا اسے نیکی کا اجر ملے گا، اور جو برائی کرے گا اسے برائی کی سزا دی جائے گی۔ اس دن کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہوگا، نہ کسی کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی اور نہ کسی کے گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال سے مکمل طور پر باخبر ہے، اس لیے وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔ وہ ایک ہی لمحے میں تمام مخلوقات کا حساب لے لے گا، کوئی حساب اسے دوسرے حساب سے مشغول نہیں کرے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظامِ عدل انتہائی کامل ہے۔ اس دن نہ کوئی رشوت چلے گی، نہ کوئی سفارش، نہ کوئی دوستی۔ صرف اعمال ہی کام آئیں گے۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ ہمارا رب عادل ہے، وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اگر ہم نے اس دنیا میں نیکی کی تو وہ اسے ضائع نہیں ہونے دے گا، اور اگر ہم نے برائی کی تو ہمیں اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو سنواریں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور اللہ کی رحمت اور عدل پر بھروسہ رکھتے ہوئے نیکی کی راہ پر چلیں۔ یاد رکھیں، اللہ کا حساب بہت تیز ہے، اس لیے ہمیں ہر لمحہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔
اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے۔ (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہ ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔