ترجمہ — Tafsir
رِزْقًا لِّلْعِبَادِ: بندوں کے لیے رزق کے طور پر (یعنی ہم نے یہ سب کچھ پیدا کیا تاکہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں)۔
بَلْدَةً مَّيْتًا: ایسی زمین جو خشک اور بے جان ہو، جہاں نہ کوئی سبزہ ہو نہ پودا۔
الْخُرُوجُ: قبروں سے نکلنا، یعنی دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا۔
اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے آیتوں میں بارش اور اس کے ذریعے زمین سے نباتات نکالنے کا ذکر فرمایا تھا، اور اب اس آیت میں فرماتا ہے کہ یہ سب کچھ ہم نے اپنے بندوں کے رزق کے لیے پیدا کیا ہے، تاکہ وہ اس سے کھائیں اور اپنی زندگی کی ضروریات پوری کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ جس طرح ہم اس بارش کے ذریعے ایک مردہ اور بنجر زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، اور اس سے ہر طرح کی سبزیاں اور فصلیں اگا دیتے ہیں، اسی طرح ہم قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے نکالیں گے۔ یہی وہ خروج ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جس ذات کے لیے مردہ زمین کو زندہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں، اس کے لیے مردہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا بھی بالکل آسان ہے۔
یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت اور سبق رکھتی ہے۔ جب ہم بارش کو دیکھتے ہیں کہ کس طرح خشک اور بے جان زمین پر پانی برستا ہے، اور وہی زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ کی قدرت کا ایک نمونہ ہے۔ جو اللہ اس پر قادر ہے وہ ہمیں بھی قبروں سے زندہ کر کے نکالے گا۔ یہ ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ہے اور ہمیں آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں، اور اس کے ساتھ ساتھ اس دن کے لیے تیاری کریں جب ہم سب کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ یہ خروج حق ہے، اس میں کوئی شک نہیں، اور جو شخص اس پر یقین رکھتا ہے وہی حقیقی کامیابی پائے گا۔
📜 آیت 9-13 — ق
ترجمہ — ق 11
سورہ ق آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہ سب کچھ) بندوں کو روزی دینے کے لئے (کیا…سورہ آیت 11/45 — ق ق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ق سنیں, ق ترجمہ, ق mp3, ق pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








