ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سَلامًا: سلامتی، تم پر سلام ہو۔
- قَوْمٌ مُّنكَرُونَ: ناواقف لوگ، اجنبی لوگ۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف آنے والے معزز مہمانوں کا ذکر کر رہی ہے، جو فرشتے تھے۔ جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس داخل ہوئے تو انہوں نے سلام کیا اور کہا: "سلام ہو آپ پر"۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب میں "سلام" کہا، یعنی تم پر بھی سلامتی ہو۔ لیکن چونکہ یہ مہمان ان کے لیے ناواقف تھے اور انہیں پہچانتے نہیں تھے، اس لیے انہوں نے دل میں کہا: یہ لوگ تو اجنبی ہیں، جنہیں ہم نہیں جانتے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سلام کرنا اسلامی آداب میں سے ہے اور مہمان نوازی کا بہترین طریقہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مہمانوں کو سلام کا جواب دیا اور ان کی عزت کی، چاہے وہ انہیں جانتے نہ ہوں۔ یہ ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ ہمیں ہر آنے والے کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے، چاہے وہ ہمارے جاننے والے ہوں یا نہ ہوں۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے بھی سلام کرتے ہیں اور سلام کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں سلام کو عام کریں، کیونکہ سلام کرنے سے محبت بڑھتی ہے اور دلوں میں الفت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نبیوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 23-27 — ذاریات
ترجمہ — ذاریات 25
سورہ ذاریات آیت 25 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا۔ انہوں…سورہ آیت 25/60 — ذاریات الذاريات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ذاریات سنیں, ذاریات ترجمہ, ذاریات mp3, ذاریات pdf. آیت 23–27. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








