ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَنَبَذْنَاهُمْ: ہم نے انہیں پھینک دیا۔
- الْيَمِّ: سمندر (یہاں مراد دریائے نیل ہے)۔
- مُلِيمٌ: وہ شخص جو ایسے کام کرے جس پر ملامت کی جائے، یعنی ملامت کے لائق۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکر کے انجام کو بیان فرمایا ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دعوت حق دی اور وہ اپنے کفر و سرکشی پر قائم رہا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ لیا۔ پھر ان سب کو سمندر میں پھینک دیا، یعنی انہیں اس طرح غرق کیا کہ وہ سب ہلاک ہو گئے۔
فرعون اس وقت اپنے اس فعل پر ملامت کے لائق تھا، کیونکہ اس نے اللہ کا انکار کیا، نبوت کا دعویٰ کیا، اور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی۔ اس کی موت بھی عبرتناک تھی کہ جب وہ ڈوب رہا تھا تو اس نے ایمان لانے کی کوشش کی، لیکن اللہ نے اس کا ایمان قبول نہ فرمایا، کیونکہ یہ ایمان مجبوری کا تھا، اختیاری نہیں۔
یہ واقعہ ہمارے لیے بہت بڑی عبرت اور نصیحت ہے کہ اللہ کی قدرت کے سامنے کوئی طاقت نہیں چل سکتی۔ فرعون جیسی عظیم سلطنت اور طاقتور لشکر اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکا۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ فرعون نے اللہ کے احکام کو ماننے سے انکار کیا اور اپنی سرکشی میں حد سے تجاوز کر گیا۔
آج بھی جو لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے ظلم و استکبار پر قائم رہتے ہیں، انہیں فرعون کے انجام سے سبق لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے، لیکن جب وہ عذاب لے آتا ہے تو کوئی اسے ٹال نہیں سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی اطاعت کریں، اس کے رسولوں کی پیروی کریں، اور اپنی زندگیوں کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالیں تاکہ ہم اس کے عذاب سے محفوظ رہیں اور اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔
📜 آیت 38-42 — ذاریات
ترجمہ — ذاریات 40
سورہ ذاریات آیت 40 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو…سورہ آیت 40/60 — ذاریات الذاريات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ذاریات سنیں, ذاریات ترجمہ, ذاریات mp3, ذاریات pdf. آیت 38–42. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








