ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَزِرُ: بوجھ اٹھائے، گناہ کا بوجھ اٹھائے۔
- وَازِرَةٌ: گناہ اٹھانے والی، بوجھ اٹھانے والی (نفس)۔
- وِزْرَ: گناہ، بوجھ۔
تفسیر آیت:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان صحیفوں (کتابوں) کا ذکر کیا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے، اور ان میں جو اہم باتیں بیان ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی (نفس) کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ یعنی قیامت کے دن ہر شخص سے صرف اس کا اپنا گناہ پوچھا جائے گا، نہ کوئی کسی کے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا اور نہ ہی کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا دی جائے گی۔ ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، اور اس کی نیکی یا بدی کا نتیجہ صرف اسی کو ملے گا۔
یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم انصاف ہے کہ اس نے عدل کا یہ اصول مقرر فرمایا کہ کوئی کسی کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، نہ والدین اپنی اولاد کے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے اور نہ اولاد اپنے والدین کے۔ یہ بات انسان کے دل کو سکون بخشتی ہے کہ اللہ کے ہاں مکمل انصاف ہے، اور ہر شخص کو اس کی محنت اور کوشش کا پھل ملے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کی فکر کرنی چاہیے، دوسروں کے گناہوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ ہر شخص اپنی ذات کے لیے کوشش کرے، نیکیاں کمائے اور گناہوں سے بچے۔ یہ اللہ کا انصاف ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، اور یہی اسلام کا پیغام ہے — محنت، ذمہ داری اور عدل کا پیغام۔ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں تو ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے امیدوار بن سکتے ہیں۔
📜 آیت 36-40 — نجم
ترجمہ — نجم 38
سورہ نجم آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں…سورہ آیت 38/62 — نجم النجم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نجم سنیں, نجم ترجمہ, نجم mp3, نجم pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








