ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- جزاءً: بدلہ، صلہ
- بما كانوا يعملون: ان اعمال کی وجہ سے جو وہ (دنیا میں) کرتے تھے
تفسیر:
یہ آیت مبارکہ اہل جنت کے لیے ایک عظیم بشارت اور خوشخبری پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو نعمتیں، جو راحتیں اور جو لذتیں اہل جنت کو حاصل ہوں گی، وہ محض ان کے اعمال صالحہ کا بدلہ اور صلہ ہوں گی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بجالائے تھے۔
یعنی جنت کی یہ بلند درجات، یہ حسین حوریں، یہ لذیذ کھانے، یہ آرام دہ بستریں اور یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کو ان کے نیک اعمال کے عوض عطا کی جائیں گی۔ جو لوگ دنیا میں اللہ کے احکامات پر عمل پیرا رہے، نماز قائم کرتے رہے، روزے رکھتے رہے، زکوٰۃ دیتے رہے، حج کیا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا، لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ان سب اعمال کا پھل انہیں آخرت میں ملے گا۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام بالکل عادلانہ ہے۔ وہ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کا حق مارتا ہے۔ جو شخص جتنا نیک عمل کرے گا، اسے اتنا ہی اجر ملے گا۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے معمولی اعمال پر بھی بے حساب اجر عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں نیک اعمال کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔ ہر عمل خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، اللہ کے ہاں محفوظ ہے اور اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ آئیے ہم اپنے اعمال کو بہتر بنائیں، اپنے کردار کو سنواریں اور اللہ کی رضا کے لیے کام کریں تاکہ ہم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہو سکیں جنہیں یہ ابدی نعمتیں ملیں گی۔ یاد رکھیں، جنت کی کوئی بھی نعمت محنت کے بغیر نہیں ملتی، لیکن اللہ کا فضل بہت بڑا ہے کہ وہ تھوڑی محنت پر بھی بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔
📜 آیت 22-26 — واقعہ
ترجمہ — واقعہ 24
سورہ واقعہ آیت 24 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھےسورہ آیت 24/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








