غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
دابر: پچھلا حصہ، جڑ، اصل۔ اس سے مراد ہے کہ قوم کی نسل اور باقی ماندہ سب ختم کر دیا گیا۔
قطع: کاٹ دینا، منقطع کر دینا، جڑ سے اکھاڑ دینا۔
تفسیر:
جب ظالموں نے اپنی سرکشی اور کفر پر اصرار کیا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس طرح ہلاک کیا کہ ان کی نسل اور باقی ماندہ سب ختم ہو گیا، کوئی شخص باقی نہ بچا۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ ظالموں کو جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے اور ان کا نام و نشان مٹا دیتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے" یعنی جب اللہ نے اپنے نیک بندوں کی مدد کی اور اپنے دشمنوں کو ہلاک کیا، تو یہ اللہ کی حمد اور شکر کا مقام ہے۔ اللہ ہی سزاوار ہے کہ اس کی تعریف کی جائے، کیونکہ وہی عدل کرنے والا، غالب اور حکمت والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ اللہ کی مدد ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور یقین رکھے کہ اللہ ظالموں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ نیز ہمیں ہر حال میں اللہ کی حمد اور شکر کرتے رہنا چاہیے، کیونکہ اللہ ہی تمام جہانوں کا رب اور مالک ہے، اور وہی عدل و انصاف کرنے والا ہے۔ یہ آیت مومنین کے لیے تسلی اور اطمینان کا پیغام ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی مدد ضرور کرتا ہے، اور ظالموں کا انجام ہمیشہ تباہی ہے۔
تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا
پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو کے گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے
(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے تو خداکے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ ردگردانی کرتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔