Wa `indahoo mafaatihul ghaibi laa ya`lamuhaaa illaa Hoo; wa ya`lamu maa fil barri walbahr; wa maa tasqutu minw waraqatin illaa ya`lamuhaa wa laa habbatin fee zulumaatil ardi wa laa ratbinw wa laa yaabisin illaa fee Kitaabim Mubeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كليدهاى غيب نزد اوست. جز او كسى را از غيب آگاهى نيست. هر چه را كه در خشكى و درياست مىداند. هيچ برگى از درختى نمىاُفتد مگر آنكه از آن آگاه است. و هيچ دانهاى در تاريكيهاى زمين و هيچ ترى و خشكى نيست جز آنكه در كتاب مبين آمده است.
🎧 سنیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مَفَاتِحُ الْغَيْبِ: غیب کے خزانے، یا غیب تک پہنچنے والے راستے (کنجیوں کی مانند)۔
ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ: زمین کی تاریکیاں، یعنی زمین کے اندرونی حصے اور اس کی تہیں۔
کِتَابٍ مُّبِینٍ: واضح کتاب، جس میں کوئی ابہام نہ ہو، یعنی لوحِ محفوظ۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے علمِ مطلق اور اس کی قدرتِ کاملہ کا عظیم ترین بیان ہے۔ اللہ ہی کے پاس غیب کے تمام خزانے ہیں، اور غیب کی کنجیاں اسی کے قبضے میں ہیں۔ کوئی فرشتہ، کوئی نبی، کوئی ولی، کوئی بشر انہیں نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔ قیامت کا وقت، بارش کا نزول، رحمِ مادر میں بچے کی کیفیت، کل کیا ہونے والا ہے، اور انسان کی موت کہاں آئے گی — یہ سب صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے علم کی وسعت بیان فرماتا ہے کہ وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو خشکی میں ہے — چاہے وہ جانور ہوں، پودے ہوں یا جمادات — اور جو کچھ سمندر کی گہرائیوں میں ہے، وہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ یہاں تک کہ درخت کا ایک پتا جو گرتا ہے، اللہ اسے جانتا ہے۔ زمین کی تاریک تہوں میں چھپی ہوئی ایک ایک دانہ، ایک ایک بیج، اللہ کے علم سے باہر نہیں۔ کوئی چیز تر ہو یا خشک، چھوٹی ہو یا بڑی، سب کچھ اللہ کے علمِ محیط میں ہے اور سب کچھ لوحِ محفوظ میں درج ہے۔
یہ آیت ہمیں اللہ کی عظمت اور اس کے علمِ کامل کا احساس دلاتی ہے۔ جب ہمیں یہ یقین ہو کہ اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور جانتا ہے، تو ہمارے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے اور ہم گناہوں سے بچتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ آیت ہمیں اللہ کی رحمت کی بھی یاد دلاتی ہے — وہ رب جو اپنی مخلوق کے ہر حال سے واقف ہے، جو ہماری ہر پریشانی اور ہر ضرورت کو جانتا ہے، وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جب بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کا رب اس کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے، تو اسے سکون ملتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی ہر دعا، ہر آنسو، ہر پوشیدہ حاجت اللہ کے علم میں ہے۔
یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے رب پر مکمل بھروسہ کریں، اس کی عبادت میں اخلاص پیدا کریں، اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ ہر چیز کا نگراں ہے۔ جو شخص اس حقیقت کو سمجھ لے، اس کی زندگی میں تقویٰ پیدا ہو جاتا ہے، اور وہ ہر عمل میں اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنے علمِ کامل پر یقین رکھنے والا اور اس کے مطابق عمل کرنے والا بندہ بنائے۔ آمین۔
اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم الله ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا
اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔