ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَآخَرِينَ مِنْهُمْ: اور انہیں میں سے دوسرے لوگ (یعنی وہ لوگ جو ابھی نہیں آئے، بعد میں آئیں گے)
- لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ: جو ابھی ان (صحابہ) سے نہیں ملے، یعنی ابھی آئے نہیں، بعد میں آئیں گے
- الْعَزِيزُ: غالب، زبردست، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے
- الْحَكِيمُ: حکمت والا، جو ہر کام حکمت سے کرے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے فضل و کرم کا ایک اور عظیم پہلو بیان فرمایا ہے۔ پہلی آیت میں اللہ نے بتایا کہ اس نے امّیوں (ان پڑھ عربوں) میں ایک رسول انہیں میں سے بھیجا، جو انہیں قرآن پڑھ کر سناتا ہے، انہیں گناہوں اور برائیوں سے پاک کرتا ہے، اور انہیں کتاب و حکمت (قرآن و سنت) سکھاتا ہے۔ اب اس آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ یہ برکت صرف پہلے زمانے کے لوگوں تک محدود نہیں، بلکہ اللہ نے اس رسول کو ان لوگوں کے لیے بھی بھیجا ہے جو ابھی نہیں آئے، بعد میں آئیں گے۔
یہ "آخرین" (دوسرے لوگ) کون ہیں؟ مفسرین نے اس کی دو اہم تشریحات بیان کی ہیں:
- تابعین اور بعد کے امتی: یعنی وہ تمام مسلمان جو صحابہ کرام کے بعد آئیں گے، قیامت تک کے تمام امتی۔ یہ بات امت محمدیہ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ رسالت کا فیض صرف ایک نسل تک محدود نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے ہے۔
- عجم (غیر عرب): یعنی وہ تمام غیر عرب قومیں جو اسلام قبول کریں گی، جیسے فارس، روم، ہند، اور دیگر اقوام۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے، نہ صرف عربوں کے لیے۔
یہ آیت امت مسلمہ کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری اور باعث فخر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک، چاہے وہ کسی بھی نسل، قوم، یا خطے سے تعلق رکھتا ہو، اس عظیم نعمت کا حصہ ہے۔ اللہ نے ہم سب کو اس رسول کی امت ہونے کا شرف عطا کیا، اور ہم سب اس تعلیم و تربیت کے مخاطب ہیں جو قرآن و سنت میں موجود ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی دو صفات بیان فرماتا ہے: "وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ" (اور وہ غالب ہے، حکمت والا ہے)۔ یعنی اللہ اپنے دین کو غالب کرنے پر قادر ہے، کوئی اسے مغلوب نہیں کر سکتا، اور وہ جو کچھ کرتا ہے حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔ اس نے رسول بھیجا، اس کی تعلیمات کو محفوظ رکھا، اور اسے ہر دور میں زندہ رکھا — یہ سب اس کی حکمت اور قدرت کا کمال ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس امت میں پیدا کیا جس کے لیے رسول اللہ ﷺ کی رسالت عام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس نعمت کی قدر کریں، قرآن و سنت کو سمجھیں، اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اسلام کسی خاص قوم یا نسل کا دین نہیں، بلکہ یہ تمام انسانیت کے لیے رحمت ہے۔ آج بھی جو شخص بھی اسلام قبول کرتا ہے، وہ اس آیت میں بیان کردہ "آخرین" میں شامل ہے، اور اس پر اللہ کا یہی فضل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس فضل کا شکر ادا کریں اور دوسروں تک بھی یہ پیغام پہنچائیں، تاکہ وہ بھی اس عظیم نعمت سے فیض یاب ہوں۔
📜 آیت 1-5 — جمعہ
ترجمہ — جمعہ 3
سورہ آیت 3/11 — جمعہ الجمعة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: جمعہ سنیں, جمعہ ترجمہ, جمعہ mp3, جمعہ pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








