ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَعْد: وہ عذاب اور حساب و کتاب جو قیامت کے دن آنے والا ہے۔
- صَادِقِین: سچے اور راست باز لوگ۔
تفسیر:
یہ آیت ان کافروں اور منکروں کا حال بیان کرتی ہے جو قیامت اور حشر کے دن کو بعید سمجھتے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ "یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ وہ دن کب آئے گا؟" یہ سوال دراصل ان کے استہزاء اور انکار کی علامت تھا، نہ کہ حقیقت جاننے کی خواہش۔ وہ اپنے دلوں میں اسے ناممکن سمجھتے تھے اور اپنے اس رویے سے ایمان والوں کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس رویے کا ذکر کرتے ہوئے انہیں متنبہ کیا ہے کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا، چاہے وہ اسے کتنا ہی بعید کیوں نہ سمجھیں۔ قیامت کا وقت صرف اللہ کے علم میں ہے، اور اس کا آنا یقینی ہے۔ مومنوں کو چاہیے کہ وہ ایسے طعنوں سے متاثر نہ ہوں، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کے وعدوں پر پختہ یقین رکھنا چاہیے، چاہے لوگ ہنسیں یا طعنے دیں۔ قیامت کا دن یقینی ہے، اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اس دن کے لیے سنواریں، کیونکہ وہ دن قریب ہے، چاہے ہم اسے دور ہی کیوں سمجھیں۔ اللہ کی رحمت اور مغفرت ان لوگوں کے لیے ہے جو اس پر ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مذاق اڑانے والوں کی پرواہ کیے بغیر اپنے ایمان پر قائم رہیں اور اللہ کی اطاعت میں اپنی زندگی گزاریں۔
📜 آیت 23-27 — ملک
ترجمہ — ملک 25
سورہ ملک آیت 25 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو…سورہ آیت 25/30 — ملک الملك (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ملک سنیں, ملک ترجمہ, ملک mp3, ملک pdf. آیت 23–27. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








