ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَنزِيلٌ: نازل کیا گیا، اترا ہوا کلام۔
- مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ: تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے۔
تفسیر:
یہ قرآنِ کریم کوئی انسانی کلام نہیں، نہ کوئی شاعری ہے اور نہ کاہنوں کی جھوٹی سجع، بلکہ یہ تو تمام جہانوں کے رب کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا، اور یہ وحی جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے لائی گئی۔ جس طرح پوری کائنات کا نظام اسی رب کے حکم سے چل رہا ہے، اسی طرح یہ قرآن بھی اسی رب کا نازل کردہ ہے، جو ہر مخلوق کا خالق، مالک اور پرورش کرنے والا ہے۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں بتاتی ہے کہ قرآنِ کریم کی عظمت اور بلندی اس لیے ہے کہ یہ اللہ رب العالمین کا کلام ہے، جو علم و حکمت کا سرچشمہ ہے۔ جب کوئی بندہ یہ جان لیتا ہے کہ وہ اللہ کے کلام کی تلاوت کر رہا ہے، تو اس کے دل میں محبت، خشیت اور ادب پیدا ہوتا ہے، اور وہ اس کی ہدایت پر عمل کرنے کی توفیق مانگتا ہے۔
یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم قرآن کو اپنی زندگی کا دستور بنائیں، کیونکہ یہی وہ کتاب ہے جو ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی تک پہنچا سکتی ہے۔ جس رب نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق دیا اور ہماری پرورش کی، اسی رب کا کلام ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ پس ہمیں چاہیے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں، اس پر غور کریں اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیاں سنواریں، تاکہ ہم اپنے رب کی رحمت اور مغفرت کے حقدار بن سکیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کی تلاوت، تدبر اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 41-45 — حاقہ
ترجمہ — حاقہ 43
سورہ حاقہ آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ تو) پروردگار عالم کا اُتارا (ہوا) ہےسورہ آیت 43/52 — حاقہ الحاقة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حاقہ سنیں, حاقہ ترجمہ, حاقہ mp3, حاقہ pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








