ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَقَوَّلَ: کسی بات کو اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرنا، جھوٹی بات بنا کر اللہ کے نام سے کہنا۔
- بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ: کچھ باتیں یا اقوال، یعنی ایسی باتیں جو اللہ نے نہ کہی ہوں۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ عظمت اور ان کی صداقت کو واضح فرما رہے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرتے جو ہم نے نہ کہی ہو، یعنی اپنی طرف سے کوئی جھوٹی بات گھڑ کر اسے وحی کہہ دیتے، تو ہم انہیں ضرور سزا دیتے۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مطلق صداقت اور امانت کو بیان فرما رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز ایسا نہیں کر سکتے، کیونکہ آپ معصوم ہیں اور اللہ کی حفاظت میں ہیں۔
یہ آیت دراصل ان لوگوں کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹی باتیں باندھتے تھے یا آپ کی رسالت میں شک کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر نبی کبھی ایسا کرتے تو ہم انہیں پکڑ لیتے اور ان کی گردن توڑ دیتے، لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر لحاظ سے سچے اور صادق ہیں، اس لیے اللہ نے آپ کی تائید کی اور آپ کا دین سربلند کیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہر قسم کے عیب اور جھوٹ سے پاک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بھی ہم تک پہنچایا، وہ سراسر اللہ کی طرف سے تھا۔ قرآن کریم ہمارے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے، اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے نجات کی ضمانت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر مکمل یقین رکھیں اور ان پر عمل کریں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے، اور یہ وعدہ ہر مسلمان کے لیے اطمینان کا باعث ہے کہ ہمارا دین حق ہے اور ہمارا نبی سچا ہے۔
📜 آیت 42-46 — حاقہ
ترجمہ — حاقہ 44
سورہ حاقہ آیت 44 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتےسورہ آیت 44/52 — حاقہ الحاقة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حاقہ سنیں, حاقہ ترجمہ, حاقہ mp3, حاقہ pdf. آیت 42–46. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








