ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَدْعُونَ: تم پکارتے ہو، جسے معبود بنا کر پکارتے ہو۔
- مِن دُونِهِ: اللہ کے سوا، اسے چھوڑ کر۔
- لَا يَسْتَطِيعُونَ: وہ قدرت نہیں رکھتے، وہ کچھ نہیں کر سکتے۔
- نَصْرَكُمْ: تمہاری مدد کرنا۔
- وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ: اور نہ ہی وہ اپنی مدد کر سکتے ہیں۔
تفسیر:
اے مشرکو! تم اللہ کو چھوڑ کر جن جھوٹے معبودوں کو پکارتے ہو، جنہیں تم نے اپنی حاجتوں کے لیے پکارنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے، وہ تمہاری کسی بھی طرح مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ نہ وہ تمہیں کسی مصیبت سے بچا سکتے ہیں، نہ تمہاری کوئی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، نہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان دور کر سکتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ تو اپنی ذات کی مدد بھی نہیں کر سکتے۔ اگر ان پر کوئی مصیبت آ جائے، کوئی انہیں توڑ دے، یا انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، تو وہ خود کو بھی نہیں بچا سکتے۔ وہ نہ تو کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان، نہ کسی کو مار سکتے ہیں اور نہ جلا سکتے ہیں۔ یہ سب بے جان چیزیں ہیں، جن میں نہ کوئی طاقت ہے، نہ شعور، نہ سننے کی صلاحیت اور نہ جواب دینے کی قابلیت۔
پھر جب یہ معبود خود اتنی کمزور اور عاجز ہیں کہ اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے، تو تم ان سے کس طرح اپنی مدد کی امید رکھتے ہو؟ کیا عقل سلیم یہی کہتی ہے کہ ایک عاجز و ناتواں چیز کو معبود بنایا جائے؟ یہ بات بار بار اس لیے دہرائی گئی ہے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ معبود نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان، نہ کسی کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ اپنی۔ ان کی عبادت سراسر جہالت اور گمراہی ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا اپنے دل سے پوچھو کہ جس ذات کو ہم اپنا رب اور معبود مانتے ہیں، وہ کتنی عظیم ہے؟ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو ہر لمحہ ہماری مدد کرتا ہے، ہمیں رزق دیتا ہے، ہماری حاجتیں پوری کرتا ہے، بیماروں کو شفا دیتا ہے، مصیبتوں میں کام آتا ہے۔ وہ زندہ ہے، سننے والا ہے، دیکھنے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے سامنے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، اس سے اپنی حاجتیں طلب کرو، اسی پر بھروسہ کرو۔ وہی ہے جو تمہاری مدد کر سکتا ہے، وہی ہے جو تمہیں کامیاب بنا سکتا ہے۔ اس کے سوا جس چیز کو بھی تم پکارو گے، وہ تمہیں کوئی جواب نہیں دے گی، تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکے گی۔ تو کیوں نہ ہم اپنی ساری امیدیں اور بھروسہ صرف اسی پر رکھیں جو حقیقت میں مدد کرنے پر قادر ہے؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا" (غافر: 60)۔ یہ کتنی بڑی رحمت ہے کہ ہمارا رب خود ہمیں اپنے پاس بلاتا ہے، اپنے سامنے دستِ سوال پھیلانے کی دعوت دیتا ہے۔ تو آؤ! ہم اپنے دلوں کو صرف اللہ سے جوڑیں، اسی سے مدد مانگیں، اسی پر بھروسہ کریں، اور اس کی عبادت کو خلوص کے ساتھ اپنے اوپر لازم کر لیں۔ یہی ہماری کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔
📜 آیت 195-199 — اعراف
ترجمہ — اعراف 197
سورہ اعراف آیت 197 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ…سورہ آیت 197/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 195–199. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








