اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَاسْتَمِعُوا لَهُ: اسے غور سے سنو، کان لگا کر سنو۔
وَأَنصِتُوا: خاموش رہو، بولنا بند کرو۔
لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ: تاکہ تم پر رحمت نازل ہو۔
تفسیر:
جب قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تو اے لوگو! تم سب اسے غور سے سنو اور خاموش رہو۔ یعنی نہ کوئی بات کرو، نہ کسی اور کام میں مشغول ہو، بلکہ پوری توجہ سے قرآن کی آیات کو سنو اور سمجھو۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ جب تم قرآن کو غور سے سنو گے تو تمہارے دلوں پر اس کا اثر ہوگا، تم اس کے معانی کو سمجھو گے اور اس پر عمل کرو گے۔ اور جب تم اس طرح قرآن سنو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت نازل فرمائے گا۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ قرآن سننا عبادت ہے۔ جب بھی قرآن کی تلاوت سنیں، چاہے مسجد میں ہو، گھر میں ہو یا کسی اور جگہ، ہمیں خاموش ہو کر سننا چاہیے۔ اس طرح ہم قرآن کے فیوض و برکات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ہدایت اور رحمت بنا کر نازل کیا ہے، اور اسے سننا اور سمجھنا ہمارے لیے باعثِ رحمت ہے۔
یاد رکھیں! قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ سننے، سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ جب ہم قرآن کو غور سے سنتے ہیں تو ہمارے دل منور ہوتے ہیں، ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور ہمیں زندگی کے ہر مسئلے کا حل ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کا آسان ترین ذریعہ قرآن سننا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ آئیے ہم اس حکم پر عمل کریں اور جب بھی قرآن کی تلاوت سنیں، خاموش ہو کر غور سے سنیں تاکہ اللہ کی رحمت ہم پر نازل ہو۔
اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنالی۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش وبصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔