ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- دعویٰ: اس کا مطلب یہاں قول، پکار یا التجا ہے۔
- بأس: عذاب، سختی اور ہلاکت۔
تفسیر:
جب ان ظالم قوموں پر ہمارا عذاب آیا، تو ان کے پاس کوئی حیلہ، کوئی بچاؤ کا ذریعہ اور نہ ہی کوئی معذرت تھی۔ ان کی ساری فصاحت و بلاغت، سارے دلائل اور ساری بحثیں ختم ہوگئیں۔ اس وقت ان کی زبان سے صرف ایک ہی جملہ نکلتا تھا، اور وہ تھا: "بے شک ہم ظالم تھے۔" یعنی انہوں نے اپنے ظلم، کفر اور نافرمانی کا اعتراف کیا، لیکن یہ اعتراف اس وقت تھا جب اعتراف کا کوئی فائدہ نہ تھا، جب عذاب آ چکا تھا اور توبہ کا دروازہ بند ہو چکا تھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ان کی آنکھیں کھلیں، لیکن دیر ہو چکی تھی۔ انہوں نے اپنے رب کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کیا، لیکن یہ اقرار نجات کا ذریعہ نہ بن سکا، کیونکہ یہ ایمان اور توبہ کے ساتھ نہ تھا، بلکہ عذاب کو دیکھ کر مجبوری میں نکلا تھا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑا سبق سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کھلا رہتا ہے جب تک عذاب نہ آئے۔ ہمیں اپنی زندگی میں ہی اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہیے، اللہ کے سامنے توبہ کرنی چاہیے، اور اپنے ظلم سے باز آنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے، وہ اپنے بندے کی توبہ پر خوش ہوتا ہے اور اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں، توبہ کا وقت موت سے پہلے ہے، عذاب سے پہلے ہے۔ جب عذاب آ جائے گا، تو پھر صرف پشیمانی اور حسرت ہوگی، جیسا کہ ان قوموں کے ساتھ ہوا۔ آئیے ہم آج ہی اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اپنی زندگیوں کو سنوار لیں، تاکہ ہم اس عذاب سے محفوظ رہیں جو ان ظالموں پر آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 3-7 — اعراف
ترجمہ — اعراف 5
سورہ اعراف آیت 5 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے…سورہ آیت 5/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 3–7. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








