اعراف · 6/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ ۝٦
Falanas `alannal lazeena ursila ilaihim wa lanas `alannal mursaleen
📖 اردو ترجمہ
تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ: وہ امتیں جن کی طرف رسول بھیجے گئے۔
  • الْمُرْسَلِينَ: اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر اور رسول۔

تفسیر:

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف کے تقاضے کے مطابق تمام امتوں سے ضرور سوال فرمائے گا کہ انہوں نے اپنے رسولوں کی دعوت کا کیا جواب دیا؟ کیا انہوں نے ان کی اطاعت کی یا انہیں جھٹلایا؟ یہ سوال اس لیے ہوگا کہ حجت قائم ہو جائے اور کسی کو کوئی عذر باقی نہ رہے۔

اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے بھی سوال فرمائے گا کہ انہوں نے اپنی امتوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا یا نہیں؟ اور ان کی امتوں نے انہیں کیا جواب دیا؟ یہ سوال رسولوں کے لیے ان کی تبلیغ کی تصدیق اور ان کے صبر و استقامت کا اعتراف ہوگا، اور امتوں کے لیے ان پر الزام ثابت کرنے کا ذریعہ۔

یہ سوال محض معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوگا، بلکہ یہ سوالِ توبیخ اور سوالِ حساب ہوگا، تاکہ ہر شخص اپنے عمل کا نتیجہ دیکھے۔ یہ اللہ کا کامل عدل ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور ہر ایک سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں غفلت سے بیدار کرتی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص سے اس کے اعمال کے بارے میں سوال ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں، کیونکہ وہی ہمارے لیے نجات کا ذریعہ ہیں۔ جو شخص دنیا میں اپنے رب کے سامنے جوابدہی کا احساس رکھتا ہے، وہ اپنے اعمال کو سنوارتا ہے اور آخرت کی فکر کرتا ہے۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کریں اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں، کیونکہ قیامت کے دن ہم سے پوچھا جائے گا کہ ہم نے اس عظیم نعمت کا کیا حق ادا کیا جو اللہ نے ہمیں رسول ﷺ کی صورت میں عطا فرمائی۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کی تیاری کریں اور اپنے اعمال کو اس کی رضا کے مطابق بنائیں۔ آمین۔



📜 آیت 4-8 — اعراف

4وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے
5فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے
6فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ
تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے
7فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ ۖ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے
8وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
6آیت

ترجمہ — اعراف 6

سورہ اعراف آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان…

سورہ آیت 6/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں