اعراف · 79/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ ۝٧٩
Fa tawalla `anhum wa qaala yaa qawmi laqad ablaghtukum Risaalata Rabbee wa nasahtu lakum wa laakil laa tuhibboonan naasiheen
📖 اردو ترجمہ
پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ: ان سے منہ موڑ لیا، الگ ہو گئے
  • أَبْلَغْتُكُمْ: میں نے تم تک پہنچا دیا
  • رِسَالَةَ رَبِّي: اپنے رب کا پیغام
  • نَصَحْتُ لَكُمْ: میں نے تمہاری خیرخواہی کی
  • لَا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ: تم نصیحت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے

تفسیر:

حضرت صالح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور انہیں راہ راست پر لانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن قوم نے نہ صرف ان کی بات نہ مانی بلکہ اللہ کی معجزاتی اونٹنی کو بھی مار ڈالا اور اپنی سرکشی میں حد سے تجاوز کر گئے۔ اس وقت حضرت صالح علیہ السلام ان کی طرف سے منہ موڑ کر الگ ہو گئے، کیونکہ عذاب کا وقت قریب آ چکا تھا اور ان کی قوم ہلاکت کے دہانے پر کھڑی تھی۔

اس موقع پر انہوں نے اپنی قوم سے رنج و ملال کے ساتھ فرمایا: "اے میری قوم! میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پوری طرح پہنچا دیا، تمہیں نیکی کی تلقین کی، برائی سے ڈرایا، اور تمہاری بھلائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ میں نے تمہارے ساتھ خیرخواہی کا حق ادا کر دیا، لیکن افسوس! تم نصیحت کرنے والوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔"

یہ فرمانِ نبی دراصل ان کی قوم کے لیے ایک آخری تنبیہ اور توبیخ تھی، اور ساتھ ہی ان کے دلوں پر افسوس کا اظہار تھا کہ وہ ہدایت قبول کرنے کے بجائے گمراہی پر قائم رہے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، لیکن قوم نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہلاکت کو دعوت دے دی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ داعیِ اسلام کا فرض صرف پیغام پہنچانا ہے، ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب ہم لوگوں کو حق کی دعوت دیتے ہیں تو ہمیں صبر اور حکمت سے کام لینا چاہیے، چاہے لوگ ہماری بات سنیں یا نہ سنیں۔ ہمیں اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا ہے۔ نیز یہ بھی سبق ملتا ہے کہ نصیحت قبول کرنے والے کامیاب ہوتے ہیں، اور جو نصیحت کرنے والوں سے نفرت کرتے ہیں، وہ آخرت میں پشیمان ہوں گے۔ اللہ ہمیں نصیحت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 77-81 — اعراف

77فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا يَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ
آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ
78فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
79فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ
پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے
80وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ
اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو (پیغمبر بنا کر بھیجا تو) اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا
81إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَاءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ
یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
79آیت

ترجمہ — اعراف 79

سورہ اعراف آیت 79 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا…

سورہ آیت 79/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 77–81. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں