اعراف · 81/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُونَ  ۝٨١
Innakum lataatoonar rijaala shahwatam min doonin nisaaa`; bal antumqawmum musrifoon
📖 اردو ترجمہ
یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ: تم مردوں کے پاس جاتے ہو (یعنی ان سے بدفعلی کرتے ہو)
  • شَهْوَةً: خواہش اور نفسانی لذت کے لیے
  • مِن دُونِ النِّسَاءِ: عورتوں کو چھوڑ کر
  • مُسْرِفُونَ: حد سے تجاوز کرنے والے، فضول خرچ اور ظلم کرنے والے

تفسیر:

اس آیت میں حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کو اس گھناؤنے فعل پر ملامت فرما رہے ہیں جو ان کی قوم کی پہچان بن چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں عورت سے محبت اور اس کی طرف میلان رکھا ہے، اور نکاح کے ذریعے سے مرد و عورت کے درمیان باہمی سکون اور رحمت کا رشتہ قائم کیا ہے۔ لیکن قومِ لوط نے اس فطری راستے کو چھوڑ کر غیر فطری اور حیوانی راستہ اختیار کیا، اور مردوں کے پاس جانے کو اپنی خواہش کا ذریعہ بنایا۔

یہ وہ فعل تھا جسے اللہ تعالیٰ نے سخت ترین الفاظ میں ناپسندیدہ قرار دیا، اور اسے فحش اور بے حیائی کی انتہا قرار دیا۔ قومِ لوط اس فعل میں اتنی آگے بڑھ گئی تھی کہ انہوں نے اپنی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرنا شروع کر دیا، اور یہ کام انہوں نے اس طرح کیا جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو۔

اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو "اسراف" یعنی حد سے تجاوز کرنا قرار دیا، کیونکہ یہ فطرتِ انسانی کے خلاف ہے، عقلِ سلیم کے منافی ہے، اور شریعتِ الٰہی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس میں انسان اپنی اصل فطرت سے بھٹک کر حیوانوں سے بھی بدتر درجے پر پہنچ جاتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جو راستے مقرر کیے ہیں، وہی اس کی فلاح اور سکون کا ضامن ہیں۔ جب انسان اپنی فطرت کے خلاف چلتا ہے اور اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے بلکہ معاشرے میں بے حیائی اور فساد پھیلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حلال ذرائع سے خواہشات کی تکمیل کا راستہ کھلا رکھا ہے، اور یہی راستہ انسان کو سکون، اطمینان اور اللہ کی رضا تک پہنچاتا ہے۔ آج کے دور میں بھی جب ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے اس قسم کی بے حیائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، تو ہمیں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہیے، اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی زندگی کو پاکیزہ اور فطری راستے پر گامزن رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس گندگی سے بچائے اور انہیں حلال اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 79-83 — اعراف

79فَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَٰقَوۡمِ لَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّٰصِحِينَ 
پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے
80وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٍ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ 
اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو (پیغمبر بنا کر بھیجا تو) اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا
81إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُونَ 
یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو
82وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَخۡرِجُوهُم مِّن قَرۡيَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ 
تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں
83فَأَنجَيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ 
تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا مگر ان کی بی بی (نہ بچی) کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
81آیت

ترجمہ — اعراف 81

سورہ آیت 81/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 79–83. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں