ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- جواب: جواب، رد
- أخرجوهم: انہیں نکال دو
- قریتکم: تمہاری بستی سے
- یتطهرون: پاکیزگی اختیار کرتے ہیں، گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں
تفسیر:
حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس گھناؤنے فعل سے منع کیا اور انہیں اللہ کی عذاب سے ڈرایا، لیکن ان کی قوم کا جواب انتہائی افسوسناک تھا۔ انہوں نے حق کو قبول کرنے کے بجائے یہ کہا کہ "انہیں اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ پاکیزگی اختیار کرنے والے ہیں۔"
یہ بات انہوں نے طنز اور استہزاء کے طور پر کہی تھی، کیونکہ ان کی نظر میں پاکیزگی اور نیکی ایک عیب تھی۔ وہ حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے اہل ایمان کو اس لیے نکالنا چاہتے تھے کہ وہ ان کے برے اعمال سے بیزار تھے اور ان کی برائیوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ ان پاکباز لوگوں کا ان کے درمیان رہنا ان کے لیے باعث تکلیف ہے، اس لیے بہتر ہے کہ انہیں شہر سے باہر کر دیا جائے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب معاشرہ گناہوں میں ڈوب جاتا ہے تو نیک لوگ ان کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت خود کرتا ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ نے اس بستی سے نکال کر محفوظ جگہ پہنچایا، اور ان کی قوم کو ایسا عذاب دیا جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے عبرت بن گیا۔
آج بھی جب کوئی شخص حق کی دعوت دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے تو اسے طعنے دیے جاتے ہیں، لیکن مومن کو ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اللہ کی مدد ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ نیکی اور پاکیزگی کو کبھی شرمندگی کی چیز نہیں سمجھنا چاہیے، چاہے معاشرہ کتنا ہی مخالف ہو جائے۔
📜 آیت 80-84 — اعراف
ترجمہ — اعراف 82
سورہ اعراف آیت 82 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا…سورہ آیت 82/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 80–84. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Wednesday, August 19, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








