اعراف · 93/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ آسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَافِرِينَ ۝٩٣
Fatawalla `anhum wa qaala yaa qawmi laqad ablaghtukum Risaalaati Rabbee wa nasahtu lakum fakaifa aasaa`alaa qawmin kaafireen
📖 اردو ترجمہ
تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں
📜

ترجمہ — Tafsir

فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ آسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَافِرِينَ

معانی الفاظ:

  • فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ: وہ ان سے منہ موڑ کر چلے گئے، یعنی جب عذاب کا وقت آیا تو شعیب علیہ السلام ان سے الگ ہو گئے۔
  • رِسَالَاتِ: پیغامات، وہ احکام اور ہدایات جو اللہ نے پہنچانے کا حکم دیا تھا۔
  • نَصَحْتُ: میں نے خیرخواہی کی، بھلائی کی نصیحت کی۔
  • آسَىٰ: غم کروں، افسوس کروں، حزن کروں۔

تفسیر:

جب شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کی طرف سے مکمل طور پر مایوس ہو کر دیکھ لیا کہ وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور اللہ کا عذاب ان پر نازل ہونے والا ہے، تو وہ ان سے الگ ہو گئے اور اپنے دل کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: "اے میری قوم! میں نے تمہیں اپنے رب کے تمام پیغامات پہنچا دیے، میں نے تمہیں ہر طرح سے نصیحت کی، تمہیں راہِ راست پر لانے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں رکھی، لیکن تم نے میری بات نہ مانی اور اپنے کفر پر قائم رہے۔ اب جب تم نے حق کو ٹھکرا دیا اور اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا، تو میں تمہارے لیے کیسے غم کروں؟ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا، حجت تمام کر دی، اب تمہارا انجام تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔"

یہ فرمانِ شعیب علیہ السلام دراصل ایک عظیم سبق ہے کہ داعیِ حق کا فرض صرف تبلیغ اور نصیحت ہے، ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب کوئی قوم حق کو ٹھکرا دے اور کفر پر اصرار کرے، تو داعی کو اپنے دل کو اس سے آزاد کر لینا چاہیے اور اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا چاہیے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ایک مخلص داعی اور مبلغِ اسلام کو اپنے فرضِ تبلیغ میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے، چاہے لوگ سنیں یا نہ سنیں۔ ہمیں اپنے پیغام کو پوری خیرخواہی اور محبت کے ساتھ پہنچانا ہے، لیکن نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ جب ہم نے اپنا حق ادا کر دیا، تو پھر کسی کے کفر یا ایمان پر غمگین ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہی وہ صبر اور استقامت ہے جو ہمیں اپنے پیارے نبی ﷺ کی امت ہونے کی حیثیت سے اپنانا چاہیے۔ اللہ ہمیں اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں صبر و استقامت عطا کرے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 91-95 — اعراف

91فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
92الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۚ الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ
(یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے
93فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ آسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَافِرِينَ
تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں
94وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ
اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو (جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں
95ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
93آیت

ترجمہ — اعراف 93

سورہ اعراف آیت 93 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ…

سورہ آیت 93/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 91–95. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں