اعراف · 92/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۚ الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ ۝٩٢
Allazeena kazzaboo Shu`aiban ka al alm yaghnaw feehaa; allazeena kazzaboo Shu`aiban kaanoo humul khaasireen
📖 اردو ترجمہ
(یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے
📜

ترجمہ — Tafsir

الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۚ الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ

معانی الفاظ:

  • كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا: گویا وہ کبھی وہاں آباد ہی نہ تھے۔
  • يَغْنَوْا: یہ "غَنِیَ" سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے کسی جگہ قیام کرنا اور آباد ہونا۔
  • الْخَاسِرِينَ: نقصان اٹھانے والے، تباہ و برباد ہونے والے۔

تفسیر:

یہ آیت اس عبرتناک انجام کا ذکر کرتی ہے جو قومِ شعیب علیہ السلام پر آیا۔ جن لوگوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی نبوت کا انکار کیا، ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ اس طرح نیست و نابود ہو گئے جیسے وہ کبھی اپنے گھروں اور بستیوں میں آباد ہی نہ تھے۔ ان کی عظیم آبادیاں، خوشحال گھر، اور پھلتے پھولتے کاروبار سب کچھ تباہ ہو گیا، اور ان کی کوئی نشانی باقی نہ رہی۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے دو بار اس کا ذکر کیا کہ "جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا" تاکہ اس حقیقت پر زور دیا جائے کہ اصل نقصان اٹھانے والے وہی تھے، نہ کہ حضرت شعیب اور ان کے ماننے والے۔ کافر قوم نے یہ گمان کیا تھا کہ اگر شعیب اور ان کے پیروکاروں کو نکال دیا جائے یا وہ خود چلے جائیں تو انہیں نقصان ہو گا، لیکن حقیقت میں نقصان خود انہیں ہی اٹھانا پڑا۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کو جھٹلانے والوں کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، چاہے وہ دنیا میں کتنے ہی طاقتور اور خوشحال کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی قدرت کے سامنے ان کی ساری قوتیں بے کار ہو جاتی ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کے رسولوں اور ان کی تعلیمات کی پیروی کرنی چاہیے، کیونکہ ان کی مخالفت کا انجام ہمیشہ خسارہ ہوتا ہے۔ آج بھی جو لوگ قرآن اور سنت کی تعلیمات کو جھٹلاتے ہیں یا ان سے غفلت برتتے ہیں، وہ حقیقی خسارے میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم حق کو پہچانیں اور اس پر ثابت قدم رہیں۔ یاد رکھیں! دنیا کی عارضی خوشحالی اور طاقت کسی کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی، لیکن ایمان اور عملِ صالح ہی وہ چیز ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیاب کر سکتی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 90-94 — اعراف

90وَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ
اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے
91فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
92الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۚ الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ
(یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے
93فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ آسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَافِرِينَ
تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں
94وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ
اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو (جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
92آیت

ترجمہ — اعراف 92

سورہ اعراف آیت 92 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے…

سورہ آیت 92/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 90–94. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں