ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَابِثِينَ: قیام پذیر، ٹھہرنے والے، ہمیشہ رہنے والے۔
- أَحْقَابًا: "حُقْب" کی جمع، جس کا مطلب ہے طویل زمانہ، ایک زمانہ، کچھ مفسرین کے مطابق ایک حُقْب اسی سال کا ہوتا ہے، لیکن یہاں مقصد تعداد نہیں بلکہ ہمیشگی اور دوام ہے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ کافر لوگ جہنم میں داخل ہو کر اس میں لَابِثِينَ یعنی قیام پذیر ہوں گے، اور وہ أَحْقَابًا یعنی بے شمار زمانوں اور طویل مدت تک اس میں رہیں گے۔ یہاں "احقاب" کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عرب لوگ طویل مدت کو "حقب" کہتے تھے، لیکن حقیقت میں یہ مدت ختم ہونے والی نہیں، بلکہ ایک کے بعد ایک زمانہ آتا رہے گا اور ان کا عذاب کبھی ختم نہ ہوگا۔ جیسے ایک زمانہ گزرے گا تو دوسرا آئے گا، اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا" (ہمیشہ رہنے والے ہیں اس میں)۔ پس یہاں "احقاب" سے مراد ایک محدود مدت نہیں، بلکہ ابدیت اور ہمیشگی ہے۔
یہ عذاب ان کے اعمال کا بدلہ ہے، کیونکہ انہوں نے دنیا میں اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی، تو آج وہ اس عذاب میں مبتلا ہیں۔ اس آیت میں کافروں کے لیے سخت وعید ہے کہ ان کا انجام جہنم ہے جہاں سے وہ کبھی نکل نہیں سکیں گے، اور نہ ہی ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو کافروں کے لیے تیار کیا ہے، اور یہ عذاب ان کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اس کی رحمت کے طلب گار بنیں، اور اس کے عذاب سے ڈریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے راستہ دکھایا ہے، اور ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم اس کی اطاعت کریں اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی کریں۔ جہنم سے بچنے کا واحد ذریعہ ایمان اور عمل صالح ہے، اور جنت کی طرف جانے والا راستہ تقویٰ اور نیکی ہے۔ اللہ ہمیں اس عذاب سے محفوظ رکھے اور جنت الفردوس میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 21-25 — نبأ
ترجمہ — نبأ 23
سورہ نبأ آیت 23 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گےسورہ آیت 23/40 — نبأ النبأ (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نبأ سنیں, نبأ ترجمہ, نبأ mp3, نبأ pdf. آیت 21–25. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








