یہ سب کچھ جو تمہیں عطا کیا گیا، یعنی کافروں کو قتل کرنا، انہیں شکست دینا، اور تمہیں فتح و نصرت عطا کرنا، یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اللہ ہی نے تمہیں یہ عزت اور غلبہ بخشا ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی ہر چال اور سازش کو کمزور اور بے اثر کرنے والا ہے۔ وہ جو بھی مکر و فریب کریں، جو بھی منصوبے بنائیں، اللہ ان سب کو خاک میں ملا دیتا ہے۔
یہ ایک عظیم بشارت ہے اہل ایمان کے لیے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کے دشمنوں کی تدبیروں کو ناکام بناتا ہے۔ کافر چاہے جتنی بھی طاقت جمع کر لیں، جتنے بھی ہتھیار اور وسائل اکٹھے کر لیں، اللہ کی قدرت کے سامنے ان کی ساری چالیں بے وقعت ہیں۔ یہ اسی لیے ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں مومنوں کے لیے بے پناہ تسلی اور اطمینان کا سامان ہے۔ جب بھی کوئی مسلمان کافروں کی سازشوں سے گھبرائے، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ہر چال کو بے اثر کرنے والا ہے۔ ہمیں اپنے رب پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ وہی ہمارا حامی و ناصر ہے۔ جو لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں، اللہ انہیں کبھی ذلیل نہیں کرتا۔ یہی وہ ایمان ہے جو مسلمانوں کو قوت بخشتا ہے اور انہیں ثابت قدم رکھتا ہے۔ آئیے ہم اپنے رب کی قدرت پر یقین رکھیں اور اس کی راہ میں صبر و استقامت اختیار کریں، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ اپنے مومن بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے
تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے
(کافرو) اگر تم (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر تمہیں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔