ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الصَّاخَّةُ: اس کا لغوی معنی ہے "چیخنے والی" یا "دہاڑ مارنے والی آواز"۔ یہ قیامت کے دن کی وہ ہولناک آواز ہے جو شدت سے کانوں میں پڑتی ہے اور انہیں بہرا کر دیتی ہے۔
تفسیر:
جب قیامت کا وہ عظیم اور ہولناک دھماکہ آئے گا، یعنی صور کا دوسرا نفخہ جس کے بعد تمام مردے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، تو اس کی شدت و ہیبت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اسے "صاخہ" اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ آواز کانوں میں اس قدر شدت سے داخل ہوگی کہ انہیں بہرا کر دے گی۔ اس دن کا ہول اور دہشت اتنی زیادہ ہوگی کہ انسان اپنے سے زیادہ پیارے رشتہ داروں سے بھی منہ موڑ لے گا۔ بھائی بھائی سے، ماں اپنے بیٹے سے، باپ اپنے بیٹے سے، اور بیوی شوہر سے الگ بھاگے گی۔ ہر شخص اپنی فکر میں ایسا ڈوبا ہوگا کہ اسے کسی اور کی خبر نہ ہوگی۔ یہ وہ دن ہے جب ہر انسان صرف اپنے اعمال کا حساب دینے میں مصروف ہوگا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے آگاہ کرتی ہے تاکہ ہم اس دن کے لیے تیاری کریں۔ جب ہم اس دن کی شدت کا تصور کریں تو ہمارے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہو اور ہم اپنے اعمال کی اصلاح کریں۔ یاد رکھیں، یہ وہ دن ہے جب نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، صرف نیک اعمال اور اللہ کی رحمت ہی نجات کا ذریعہ ہوگی۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں، نمازوں کی پابندی کریں، اور اللہ کی رحمت کے طلب گار بنیں تاکہ اس ہولناک دن ہم محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس دن کے عذاب سے بچائے اور اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے۔ آمین۔
📜 آیت 31-35 — عبس
ترجمہ — عبس 33
سورہ عبس آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو جب (قیامت کا) غل مچے گاسورہ آیت 33/42 — عبس عبس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عبس سنیں, عبس ترجمہ, عبس mp3, عبس pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








